قومی زبان

دعائیں کیجیے غنچوں کے مسکرانے کی

دعائیں کیجیے غنچوں کے مسکرانے کی ابھی امید ہے باقی بہار آنے کی میں جن کا دل میں تصور سجائے رکھتا ہوں کوئی تو راہ ملے ان تک آنے جانے کی تلاش خود ہی میں کر لوں گا آپ کے گھر کو نہ دوں گا آپ کو زحمت میں گھر پہ آنے کی بغیر اس کے مجھے نیند کیسے آئے گی دعائیں دیتے ہو تم کیوں مجھے سلانے ...

مزید پڑھیے

نغمہ الفت کا گا دیا میں نے

نغمہ الفت کا گا دیا میں نے عشق کو جگمگا دیا میں نے یارو اپنے ہی خون سے دیکھو اس نگر کو سجا دیا میں نے جو تھے بیگانے بن گئے اپنے یہ بھی کر کے دکھا دیا میں نے غم کدے کو سنوار کر ہر شام اک نیا گل کھلا دیا میں نے آشیاں اپنا اک بنانے میں خوں پسینہ بہا دیا میں نے جن دنوں میں جوان تھا ...

مزید پڑھیے

باعث ترک ملاقات بتائے کوئی

باعث ترک ملاقات بتائے کوئی بات کیا ہو گئی آخر یہ جتائے کوئی جس نے میری تو کوئی بات نہ مانی نہ سہی میری جانب سے اسے جا کے منائے کوئی منتظر بیٹھے ہیں تم آن کے دیکھو تو سہی نہیں آؤ گے یہی آ کے بتائے کوئی آج خوابوں میں بہت ہم کو نظر آئے سراب دن چڑھا اب تو ہمیں آ کے جگائے کوئی تلخ ...

مزید پڑھیے

گھٹا جب رقص کرتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے

گھٹا جب رقص کرتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے کبھی جب مینہ برستی ہے تو ان کی یاد آتی ہے کوئی نازک بدن ملتا ہے جب از راه بیگانہ طبیعت بھیگ جاتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے ہوا جب لے کے آتی ہے گلابی اجنبی خوشبو کلی سی دل میں کھلتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے سویرا لے کے آتا ہے مرے خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

سوچتے ہیں کہ بلبلہ ہو جائیں

سوچتے ہیں کہ بلبلہ ہو جائیں چند لمحے جئیں فنا ہو جائیں دوستی اپنی دیر پا کر لیں آؤ کچھ دن کو ہم جدا ہو جائیں ساتھ تو ہے تو منزلیں اپنی ورنہ بھٹکیں تو لاپتہ ہو جائیں ہم کہ الفت میں جان تک دے دیں اور بچھڑیں تو سانحہ ہو جائیں رفتہ رفتہ تجھے تراشیں ہم دھیرے دھیرے تری قبا ہو ...

مزید پڑھیے

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے مرا نہیں ہے تو پھر کس لئے ستاؤں اسے وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے میں چاہتا ہوں مرا پیار اس سے ایسا ہو وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد تمام رات محبت سے پھر جگاؤں ...

مزید پڑھیے

زخم فرقت کو تری یاد نے بھرنے نہ دیا

زخم فرقت کو تری یاد نے بھرنے نہ دیا غم تنہائی مگر رخ پہ ابھرنے نہ دیا آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا تو نے جس روز سے چھوڑا اسے خالی رکھا میں نے خوشیوں کو بھی اس دل میں ٹھہرنے نہ دیا ربط جو تجھ سے بنایا سو بنائے رکھا تو ہی کیا تیرا تصور ...

مزید پڑھیے

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی کرتا ہے ان کو یاد بھلانے کے بعد بھی پیماں کی نذر ہو گئے چین و سکوں، قرار لیکن نبھا نہیں ہے نبھانے کے بعد بھی اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی تسکین دل نصیب نہیں ہے تو کیا ہوا ہونا یہی ہے پیار جتانے کے بعد ...

مزید پڑھیے

ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں

ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں اب تو لگتا نہیں ہم کو ڈر خواب میں اپنی برسوں سے ہے اک وہی آرزو روز آ جائے ہے جو نظر خواب میں وقت آنے پہ سب کو غشی آ گئی جو بتاتے تھے خود کو نڈر خواب میں ظلم کی آندھیاں بڑھ کے طوفاں ہوئیں مست دنیا ہے پر رات بھر خواب میں عشق کی یہ مسافت بھی کیا ...

مزید پڑھیے

آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے

آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے ہم راہ پر ہیں شمع فروزاں کئے ہوئے مایوس قلب ہے تری آمد کا منتظر دہلیز پر نگاہ کو چسپاں کئے ہوئے عہد وفا کو توڑ کے ہم بھی ہیں مضمحل تم بھی ادھر ہو چاک گریباں کئے ہوئے آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے بیٹھے ہیں تشنہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4969 سے 6203