قومی زبان

چراغوں کا کلیجہ بھن رہی ہیں

چراغوں کا کلیجہ بھن رہی ہیں ہوائیں درد کس کا سن رہی ہیں بہت مصروف ہیں سانسیں ہماری ابھی جینے کی چادر بن رہی ہیں یہ اڑتی رنگ برنگی تتلیاں کیا شگفتہ پھول دل کا چن رہی ہیں پہاڑی راگ جب ندیوں نے چھیڑے اچھلتی لہریں خود سر دھن رہی ہیں چمکتی بجلیوں پہ غور کرنا ہمارے ہوش کا ناخن رہی ...

مزید پڑھیے

اونچے پیڑوں کے نیچے ہنسی رہ گئی

اونچے پیڑوں کے نیچے ہنسی رہ گئی کالی پرچھائیں میں چاندنی رہ گئی سرخ گالوں پہ آنسو کے قطرے گرے پھول سے ہونٹ پر تشنگی رہ گئی اے خدا تیری دنیا میں سب کچھ تو ہے دل دھڑکتا ہے کیوں کیا کمی رہ گئی کس نے تصویر کھینچی ہے آواز کی دور سے بولتی زندگی رہ گئی سر شام تیزی سے رخصت ہوئی رات کے ...

مزید پڑھیے

دعائے دست فضیلت سے سر کی رونق ہے

دعائے دست فضیلت سے سر کی رونق ہے ہمارے گھر کے بزرگوں سے گھر کی رونق ہے در و دیوار سے کلکاریاں نکلتی ہوئیں ابھی بھی صحن میں بوڑھے شجر کی رونق ہے ہری بھری ہے یہ چوکھٹ کسی کے قدموں سے ہماری نیم شبی بھی سحر کی رونق ہے زمانہ دیکھ چکا ہے جلال سورج کا یہ شام سرمۂ نور نظر کی رونق ...

مزید پڑھیے

اب اس سے پہلے کہ دنیا سے میں گزر جاؤں

اب اس سے پہلے کہ دنیا سے میں گزر جاؤں میں چاہتا ہوں کوئی نیک کام کر جاؤں خدا کرے مرے کردار کو نظر نہ لگے کسی سزا سے نہیں میں خطا سے ڈر جاؤں ضرورتیں میری غیرت پہ طنز کرتی ہیں مرے ضمیر تجھے مار دوں کہ مر جاؤں بہت غرور ہے بچوں کو میری ہمت پر میں سر جھکائے ہوئے کیسے آج گھر جاؤں مرے ...

مزید پڑھیے

میری طرح ذرا بھی تماشہ کیے بغیر

میری طرح ذرا بھی تماشہ کیے بغیر رو کر دکھاؤ آنکھ کو گیلا کیے بغیر غیرت نے حسرتو کا گریباں پکڑ لیا ہم لوٹ آئے عرض تمنا کیے بغیر چہرہ ہزار بار بدل لیجیے مگر ماضی تو چھوڑتا نہیں پیچھا کیے بغیر کچھ دوستوں کے دل پہ تو چھریاں سی چل گئیں کی اس نے مجھ سے بات جو پردہ کیے بغیر

مزید پڑھیے

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے مگر بہار و خزاں میں تو امتیاز کرے مری حیات کا مقصد ہے صرف لذت غم کوئی یہ سلسلۂ غم ذرا دراز کرے جنوں کے دور میں ہو جس کو شوق گل چینی چمن میں کیسے وہ کانٹوں سے احتراز کرے یہی ہے خالق جذبات کا کرم شاید تمہیں خوشی سے ہمیں غم سے سرفراز کرے نہ کیجئے کسی ...

مزید پڑھیے

دل کی روداد دل لگی نہ سہی

دل کی روداد دل لگی نہ سہی سن تو لیجے کبھی ابھی نہ سہی دیکھ کر مجھ کو پھیر لیں نظریں ان کے چہرے پہ برہمی نہ سہی ان کا جلوہ تو ہر مقام پہ ہے عام فیضان دید ہی نہ سہی میرے ایقان میں کمی کیوں ہے آپ کے لطف میں کمی نہ سہی جبر ہستی ہے ناگزیر اشرفؔ زندگی آج زندگی نہ سہی

مزید پڑھیے

حق نہیں مجھ کو شادمانی کا

حق نہیں مجھ کو شادمانی کا شکریہ غم کی مہربانی کا آپ کے اور ہمارے آنسو میں فرق ہے آگ اور پانی کا ہے محبت کا نام عمر ابد ذکر ہی کیا حیات فانی کا خود مرے دل نے میری آنکھوں کو فرض سونپا ہے خوں فشانی کا اہل دل کی کہانیاں توبہ ایک عنواں ہے ہر کہانی کا کیوں نہ سرگوشیاں ہوں محفل ...

مزید پڑھیے

قہر مجسم حسن مکرم

قہر مجسم حسن مکرم آپ ہی شعلہ آپ ہی شبنم آپ نہ آئے یہ بھی نہ سوچا بزم میں کتنے دل ہوئے پر غم مان بھی لیتے ان کی باتیں لیکن کچھ آواز تھی مدھم آپ یہ آخر کیوں ہیں پشیماں آپ سے کچھ شاکی تو نہیں ہم یوں نہ جتاؤ اپنی بڑائی آپ کی ہستی خود ہے مسلم گونجتی ہیں اب تک کانوں میں باتیں ان کی ...

مزید پڑھیے

اختلاف

بیاض زندگی میں امن کا ورق ہی صاف ہے یہ عافیت کا قصر ہے اور قصر میں شگاف ہے زمیں پہ آسماں نہیں یہ ظلم کا غلاف ہے ہمیں یہ ظلم میں اٹی فضا سے اختلاف ہے کرشمہ گر نگاہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں بہانہ ساز آہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں نمائشی کراہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہمیں گلی سڑی ہوئی وفا سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4971 سے 6203