قومی زبان

خیال و خواب کے دریا کے پار اثر بھی گئے

خیال و خواب کے دریا کے پار اثر بھی گئے جدھر ہمیں نہیں جانا تھا ہم ادھر بھی گئے بدن سے لپٹے رہے بے زمینیوں کے عذاب تلاش رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے جو چاہتے تھے ستاروں سے تیری مانگ بھرے انہیں تلاش نہ کر اب وہ لوگ مر بھی گئے اب ان کی یادوں سے آنکھوں کو اور سرخ نہ کر وہ حادثے تو ...

مزید پڑھیے

اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے

اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے جہاں کے تھے ہی نہیں اس جہاں کے ساتھ رہے نئی زمیں پہ کھلاتے رہے شناخت کے پھول جہاں رہے وہاں اپنی زباں کے ساتھ رہے سجا کے نوک پلک تک وراثتوں کا جمال ثقافت وطن میزباں کے ساتھ رہے ہم اپنے لمحۂ موجود کے حوالوں سے غبار قافلۂ رفتگاں کے ساتھ رہے تراشتی ...

مزید پڑھیے

ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں

ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں میں کیا ہوں اور آخر کیا نہیں ہوں مجھے تم میرے موسم ہی میں پڑھنا نصاب نسل آئندہ نہیں ہوں وفاداری کناروں سے جو بدلے میں دریاؤں کا وہ رستہ نہیں ہوں جو دل کی دھڑکنوں کی ہم نوا ہے اسی آواز پر پلٹا نہیں ہوں بہت سے مسئلے ہیں زندگی میں مگر تجھ کو تو میں ...

مزید پڑھیے

دیے جو کر دیے گل عہد شب میں رہتے ہوئے

دیے جو کر دیے گل عہد شب میں رہتے ہوئے یہ احتجاج تھا حد ادب میں رہتے ہوئے ہر ایک بات پہ اشک ہر نئی سحر سے گریز برس گزر گئے کیوں اور کب میں رہتے ہوئے وہ لوگ کون تھے کس آب و گل کا پیکر تھے جو پھول جیسے تھے دشت غضب میں رہتے ہوئے گزشتگان محبت سے کچھ ہنر لے کر جدا سبھی سے رہے اور سب میں ...

مزید پڑھیے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے سب شجر نقل مکانی کے ثمر بار ملے باد ہجرت تو ہمیں لے کے جہاں آئی ہے ان گلی کوچوں میں انسانوں کے شہکار ملے خوب صورت سے کسی بار کے اک گوشے میں دل کی تنہائی مٹانے کو کئی یار ملے کہیں کھو جانے کا دکھ ایک حقیقت ہی سہی اپنی پہچان کے بھی نت نئے آثار ...

مزید پڑھیے

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں یوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں اس بزم میں اک جشن چراغاں ہے انہی سے کچھ خواب جو پلکوں پہ اجالے ہوئے ہم ہیں کچھ اور چمکتا ہے یہ دل جیسا ستارا کن درد کی لہروں کے حوالے ہوئے ہم ہیں دل ہے کہ کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پاتا اک موج تذبذب کے ...

مزید پڑھیے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے

نئی دنیا نئے منظر نئے افکار ملے سب شجر نقل مکانی کے ثمر بار ملے باد ہجرت تو ہمیں لے کے جہاں آئی ہے ان گلی کوچوں میں انسانوں کے شہکار ملے خوب صورت سے کسی بار کے اک گوشے میں دل کی تنہائی مٹانے کو کئی یار ملے کہیں کھو جانے کا دکھ ایک حقیقت ہی سہی اپنی پہچان کے بھی نت نئے آثار ...

مزید پڑھیے

دل اجنبی دیس میں لگا ہے

دل اجنبی دیس میں لگا ہے آندھی سے دیے کا رابطہ ہے ٹوٹے ہوئے لوگ ہیں سلامت یہ نقل مکانی کا معجزہ ہے کوئی بھی نہیں یہاں پہ آزاد دھوکا یہ فقط نگاہ کا ہے میں جس میں نہیں ہوں اور وہیں ہوں وہ گھر مری راہ دیکھتا ہے بڑھ جائیں گی اور الجھنیں کچھ لوٹ آنے سے فائدہ بھی کیا ہے جب ڈھونڈ لیا ...

مزید پڑھیے

نا مہرباں ہے تو تو کوئی مہرباں بھی ہے

نا مہرباں ہے تو تو کوئی مہرباں بھی ہے ہے جس جگہ زمین وہاں آسماں بھی ہے تبدیل کر کے دیکھ نگاہوں کے زاویے جو تیری آنکھ میں ہے وہ منظر یہاں بھی ہے یوں ہی تو رابطوں میں نہیں ہے کھنچاؤ سا ہم ہی نہیں ہیں اور کوئی درمیاں بھی ہے مل ہی گیا ہے جب تو محبت سے بات کر ورنہ یہ دھیان رکھ مرے منہ ...

مزید پڑھیے

جب سے اپنے گھر کے بام و در سے نکلے ہیں

جب سے اپنے گھر کے بام و در سے نکلے ہیں کیسے کیسے منظر پس منظر سے نکلے ہیں نرم زمیں اور پانی کے محتاج نہیں ہیں ہم ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں کوئی تو اپنے جیسا اپنے اندر ہے موجود اپنی ذات کے باہر کس کے ڈر سے نکلے ہیں شور کی چادر کے پیچھے ہے خاموشی کا رقص سناٹے آوازوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4957 سے 6203