قومی زبان

اس زندگی میں کچھ تو تب و تاب چاہیے

اس زندگی میں کچھ تو تب و تاب چاہیے آنکھوں کو روز ایک نیا خواب چاہیے اس شہر بے مثال کی گلیوں کے ساتھ ساتھ سر پر ردائے انجم و مہتاب چاہیے خاموشیوں کو اذن تکلم جہاں ملے وہ بزم اور وہ حلقۂ احباب چاہیے لمحہ بہ لمحہ لگتے رہیں زخم بے شمار حلقہ بہ حلقہ اک نیا گرداب چاہیے دل میں کسی کے ...

مزید پڑھیے

خواہش دیوار و در ہے اپنا گھر ہوتے ہوئے

خواہش دیوار و در ہے اپنا گھر ہوتے ہوئے بے ثمر ہیں اپنی شاخوں پر ثمر ہوتے ہوئے لوگ سائے اور شجر سے اس قدر بیزار ہیں شاخ کو بھی کاٹتے ہیں شاخ پر ہوتے ہوئے اک عذاب خوف بے سمتی بھی ان آنکھوں میں ہے اپنی منزل اور اپنی رہ گزر ہوتے ہوئے جائے گی آخر کہاں ویران لمحوں کی یہ گرد میرا گھر ...

مزید پڑھیے

جب ہوئی اس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی

جب ہوئی اس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی خود بہ خود آ گئی آنکھوں میں نمی تھوڑی سی بن گیا پھول بنانے تھے خد و خال اس کے رہ گئی میرے تخیل میں کمی تھوڑی سی اور دو آتشہ کر دیتی ہے آہنگ غزل ہندوی لے میں نوائے عجمی تھوڑی سی

مزید پڑھیے

جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے

جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے مرے چاروں طرف پانی ہی پانی کس لیے ہے میں اکثر سوچتا ہوں دل کی گہرائی میں جا کر زمیں پر ایک چادر آسمانی کس لیے ہے بظاہر پر سکوں اور دل کی ہر اک رگ سلامت تو زیر سطح دریا اک روانی کس لیے ہے میں ٹوٹا ہوں تو اپنی کرچیاں بھی جوڑ لوں گا پہ چہرے پر مرے یہ ...

مزید پڑھیے

زومنگ

دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیں اتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہر چھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جال سڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلی ویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجر تنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکان چھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحن کچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا ...

مزید پڑھیے

کیسے

اگر اس زندگی کو ایک پھول اور ایک خواب اور ایک تم ملتے تو پھر یہ زندگی کا کینوس رنگوں سے بھر جاتا میسر ہے مجھے بھی ایک پھول اور ایک خواب اور ایک تم لیکن کبھی تم ساتھ ہوتے ہو تو پھر وہ پھول میری دسترس ہی میں نہیں ہوتا کبھی وہ پھول میری انگلیوں کی پور کو چھو کر ہوا میں رقص کرتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے چلا تو سات سمندر کا سامنا تھا مجھے میں اپنی پیاس میں کھویا رہا خبر نہ ہوئی قدم قدم پہ وہ دریا پکارتا تھا مجھے زمانے بعد ان آنکھوں میں اک سوال سا تھا کہ ایک بار پلٹ کر تو دیکھنا تھا مجھے یہ پاؤں رک گئے کیوں بے نشان منزل پر یہاں سے اک نیا رستہ ...

مزید پڑھیے

شیشۂ دل میں ترے واسطے بال آیا کیوں

شیشۂ دل میں ترے واسطے بال آیا کیوں یہ مجھے تجھ سے نہ ملنے کا خیال آیا کیوں میں تو خوش تھا کہ ترا مان رکھا ہے میں نے تیرے چہرے پہ مگر عکس ملال آیا کیوں اور بھی غم تھے مگر ایک نیا غم یہ ہے میں ترے سامنے یوں غم سے نڈھال آیا کیوں کیسے اس دل کو مرے چین ملا اول شب درد کی سرمئی شاموں پہ ...

مزید پڑھیے

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی مت پوچھئے کس موڑ پہ قسمت نکل آئی کچھ ان دنوں دل اس کا دکھا ہے تو ہمیں بھی اس شخص سے ملنے کی سہولت نکل آئی آباد ہوئے جب سے ان آنکھوں کے کنارے دنیا جسے سمجھے تھے وہ جنت نکل آئی جو خواب کی دہلیز تلک بھی نہیں آیا آج اس سے ملاقات کی صورت نکل آئی اب آ ...

مزید پڑھیے

سوچ کی موج رواں لے کے کدھر آئی ہے

سوچ کی موج رواں لے کے کدھر آئی ہے یہ سمندر کا کنارہ ہے کہ گہرائی ہے کون ہے جس نے ہلا ڈالا مرا سارا وجود میری آواز کس آواز سے ٹکرائی ہے شہرتیں حد سے گزر جائیں تو یہ دھیان رہے موسم ناموری موسم رسوائی ہے اپنے اطراف بہت بھیڑ کے ہوتے ہوئے بھی میں جہاں ہوں وہاں تنہائی ہی تنہائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4958 سے 6203