آج تم ایسے ہنسے
آج تم ایسے ہنسے جیسے کوئی آزاد کر دے سیکڑوں قیدی پرندے شور کرتے آسماں کی سمت یا بارش سمندر پر گرے رفتار میں یا دھوپ کھل جائے بھری برسات میں تم گونج ہو خوشیوں کے تہواروں کی جو ہم بھولپن میں اپنے بچپن کے سفر میں بھول بیٹھے ہیں تمہیں کس نے کہا اتنا ہنسو کہ بال کھل جائیں تمہیں کس نے ...