قومی زبان

آج تم ایسے ہنسے

آج تم ایسے ہنسے جیسے کوئی آزاد کر دے سیکڑوں قیدی پرندے شور کرتے آسماں کی سمت یا بارش سمندر پر گرے رفتار میں یا دھوپ کھل جائے بھری برسات میں تم گونج ہو خوشیوں کے تہواروں کی جو ہم بھولپن میں اپنے بچپن کے سفر میں بھول بیٹھے ہیں تمہیں کس نے کہا اتنا ہنسو کہ بال کھل جائیں تمہیں کس نے ...

مزید پڑھیے

آزادوں کا گیت

میرے دن سیراب ہوئے ہیں نیندیں گھور سمندر جیسی میری آنکھ سے لپٹی ہیں صبح کی ساعت آزادوں کا گیت بنی ہے ساتھ چلی ہے سیاحوں کے رستے پر میں ایک سوار صدا کے رتھ پر بیٹھ کے جاؤں سورج مکھی کے جلسے میں بات کروں تہواروں کی جو میرے وصل کے دروازوں تک آ پہنچے ہیں میری عمر کے کھلیانوں میں جن کی ...

مزید پڑھیے

اپنی رات لے جاؤ

میرے گھر کے سامنے رات کی گاڑی کا ایک پہیہ نکل گیا میرا بیٹا اس پہیے سے کھیلتا ہے گاڑی کو لینے کوئی نہیں آیا اس دن سے میرے گھر میں اخبار نہیں آیا دودھ نہیں آیا پرندہ نہیں آیا اس دن کے بعد میں نے اپنی نظم میں کوئی شکار نہیں کھیلا میں اپنی نظم کے اندر خاموش ہو گیا اور میری نظم آہستہ ...

مزید پڑھیے

میں گرتا ہوں

جب میں خوابوں کی سطح سے گرتا ہوں وہ ہنستے ہیں اور آسمان کی بجلی ان کے دانتوں میں پھنس جاتی ہے جب تیس دنوں کی سیڑھی سے ہر ماہ میں نیچے گرتا ہوں وہ ہنستے ہیں اور ان کے ہاتھ میں میرے بدن کی مٹی ہے جب کچی سیاہی اور قینچی سے لکھے ہوئے اخبار سے نیچے گرتا ہوں وہ ہنستے ہیں اور ان کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

محبت کی نظم

میری باتیں جیسے دھوپ ہو سرما کی دالانوں میں برفیں تیری خاموشی کی جن کے نیچے ہاتھ ہمارے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں ساری بستیاں میرے تیرے قیام کو ترسیں ہم مہمان بنیں تو ان کی بوڑھی گائیں خشک تھنوں سے دودھ اتاریں ان کے بچے اپنے باپ کا کہنا مانیں ان کے پرندے چھتوں پہ بیٹھ کے پر ...

مزید پڑھیے

ابھی کچھ دن لگیں گے

ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں کسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میں کسی کے شہر کو دریافت کرنے میں کسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے درد کا پرچم بنانے میں پرانے زخم پہ مرہم لگانے میں محبت کی کویتا کو ہوا کے رخ پہ لانے ...

مزید پڑھیے

چھٹی کا دن

اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہے ہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر بکھرنے لگے ہیں زمینوں پہ احکام کے لمبے چابک سے تاریخ داں اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیں نصیبوں کی آواز میں وقت ڈھلنے لگا ہے تو پھر! نظم لکھنے کی خواہش گنہ گار انصاف کے فیصلوں سے زیادہ بری تو نہیں ہے اگر موسموں کی رگوں ...

مزید پڑھیے

شہر بدر

شام کا پنجرہ میرے جسم پہ گر جاتا ہے اور میں درجہ دوم کا قیدی دشمن کے اخبار سے پوری دنیا کے لوگوں کی بگڑتی شکلیں دیکھنے لگتا ہوں اور سورج کی آزادی میرے جینے کی خواہش کو اپنا دوست بنانے آ جاتی ہے میرے ناشتے کے برتن میں میری محبت کے برسوں کا سارا ذائقہ بھر جاتا ہے سگریٹ کے ہر کش سے ...

مزید پڑھیے

اے خاموشی

اے خاموشی! میرے خون میں چھپ کے بیٹھ دلہن بن کے میرے چہرے پر شرما آج کی شب اس خون میں دریا روئیں گے اور بچے شور مچائیں گے اے خاموشی! کفن ہو جیسے رنگت سے محروم تجھ میں بھی کچھ ایسی بے لفظی کا موسم پھیلے تو بھی دم توڑے میری آنکھوں میں ان سانپوں میں جو سانسوں میں پھنکارتے ہیں اے خاموشی! ...

مزید پڑھیے

تاریخ ایک خاموش زمانہ

یہ ساٹھ صدی کا قصہ ہے یہ ساٹھ برس کی بات نہیں تاریخ نے جب آنکھیں کھولیں سب پانی تھا پھر پانی پر تصویر بنی تصویر زمیں پر پھیل گئی اور اس پر بارش ٹوٹ پڑی اک بیج کہیں پر ساٹھ صدی کی آہٹ سے بیدار ہوا جنگل بن کر پھیل گیا وہیں کہیں پر میں بھی تھا تم بھی تھیں تاریخ نے دستک دی تھی تاریخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4956 سے 6203