قومی زبان

ونڈرلینڈ

سنڈریلا کی جوتی بھی کھوئی گئی منجمد قصر میں اسنووہائٹ کے فوارہ چالیس فٹ کی بلندی سے موتی لٹانے لگا اپنے ایوان کے مخملی فرش پر ایک مچھیرے کی طماع بیوی بھی شمس و قمر پر حکومت کی امید میں اپنے خوابوں کی دنیا میں تحلیل ہوتی گئی ہنیسؔ اینڈرسن اور گرم بھائیوں کی طرب ناک دنیا کی خاکستر ...

مزید پڑھیے

نیا پرومیتھیس

میں خوشبو جسم سمندر آنکھوں کا اک خواب چرا کر لایا تھا میں آگ چرا کر لایا تھا صحرائے وجود کی تنہائی اس خواب سے کتنی شاداں تھی اس آتش لرزاں کی تابش تخلیق کی ضو میں نمایاں تھی مرا خواب وہ میرا پھول بدن مری آگ مرے فردا کا چمن میں خوابوں سے مسرور رہا میں آتش پر مغرور رہا پھر لہر اٹھی ...

مزید پڑھیے

مدت کے بعد سوچ میں غلطاں ہوا تو کیا

مدت کے بعد سوچ میں غلطاں ہوا تو کیا اپنے کیے پہ آپ ہی حیراں ہوا تو کیا اک پاس رسم تھا جسے ہم نے نبھا دیا اب وہ کیے پہ اپنے پشیماں ہوا تو کیا یہ سب ادائیں حسن کی ہیں عشق کے لیے کتنا ہی پر فسوں رخ خوباں ہوا تو کیا یہ حسن سنگ بھی بت زیبا کے دم سے ہے نیلم ہوا تو کیا کوئی مرجاں ہوا تو ...

مزید پڑھیے

بھیگے موسم سے لپٹنے کا نتیجہ نکلا

بھیگے موسم سے لپٹنے کا نتیجہ نکلا اپنا ارمان بھی کاغذ کا کھلونا نکلا رات کے آخری حصے میں یہ دیکھا میں نے تیرگی چیر کے سورج کا اجالا نکلا چور ہیرے کا سمجھتی رہی دنیا جس کو اس کی مٹھی سے تو تسبیح کا دانہ نکلا بس میں جب کر نہ سکا اس کو کسی منتر سے جان ناگن سے چھڑا کر وہ سپیرا ...

مزید پڑھیے

بے وفا با وفا نہیں ہوتا

بے وفا با وفا نہیں ہوتا ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اب زمانے میں ایک بھی سجدہ زیر خنجر ادا نہیں ہوتا سنتے آئے ہیں سر ہتھیلی پر رکھنے والا فنا نہیں ہوتا چوک جاتے تھے بات ہے کل کی اب نشانہ خطا نہیں ہوتا جو برا سوچتے ہیں اوروں کا ان کا اپنا بھلا نہیں ہوتا بعد لٹنے کے یہ ہوا ...

مزید پڑھیے

کبھی ہاتھوں میں اپنے کاسۂ ذلت نہیں لے گا

کبھی ہاتھوں میں اپنے کاسۂ ذلت نہیں لے گا جو ہے خوددار وہ خیرات کی دولت نہیں لے گا جسے خانہ بدوشوں کی طرح جینے کی عادت ہے کہیں بھی مستقل سر پر وہ کوئی چھت نہیں لے گا ابھی پکی سڑک سے گاؤں میرا دور ہے صاحب کوئی پانی پلا کر آپ سے قیمت نہیں لے گا وہ ڈاکو ہے تو سب کچھ چھین کر لے جائے گا ...

مزید پڑھیے

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں میں حقیقت میں ستاروں کی طرف دیکھتا ہوں ڈوبتا ہوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ہیں کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ہوں چادریں ان کو میسر ہیں مگر مجھ کو نہیں میں تو سردی میں مزاروں کی طرف دیکھتا ہوں کیوں روانی لیے آیا ہے یہاں پر دریا فکر ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے

صبح مٹی ہے شام ہے مٹی

صبح مٹی ہے شام ہے مٹی یعنی اپنا مقام ہے مٹی کس جگہ پر کروں بسیرا میں جو بھی ہے وہ قیام ہے مٹی دائمی کچھ نہیں ہے رہنے کو جس کو دیکھو دوام ہے مٹی اب تو آ اور تو سنبھال اسے دیکھ لے یہ غلام ہے مٹی لغزش زندگی سے علم ہوا موت کا ہی پیام ہے مٹی میں نے دفنا دیا ہے خواہش کو کیونکہ خواہش ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہے تھے کہ اب آسمان برسے گا

سمجھ رہے تھے کہ اب آسمان برسے گا یہ سوچ کب تھی کہ وہ مہربان برسے گا وہ وقت دور نہیں جب زمین والوں پر مکان ٹوٹے گا اور لا مکان برسے گا تمہارے ظلم کی آندھی میں سر اٹھاتے ہوئے تمہارے سر پہ ہر اک بے زبان برسے گا گمان کہتا ہے میرا کہ ایک دن مجھ پر تری وفا تری چاہت کا مان برسے گا کسی ...

مزید پڑھیے

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں تم بادل مہمان بنائے بیٹھے ہو دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے گھر اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو کس کے آنے کی امید میں آخر یوں رستے کو گلدان بنائے بیٹھے ہو کون کسی کی یاد بھلائی جانے کو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4937 سے 6203