قومی زبان

ترے بدن کے نئے زاویے بناتا ہوا

ترے بدن کے نئے زاویے بناتا ہوا گزر رہا ہے کوئی دائرے بناتا ہوا یہاں ستارے کو کیا لین دین کرنا تھا جو ٹوٹ پھوٹ گیا رابطے بناتا ہوا وفا پرست نہیں تھا تو اور کیا تھا وہ جو زخم زخم ہوا آئنے بناتا ہوا میں دوستوں کے اک اک امتحاں سے گزرا ہوں بکھر گیا ہوں کئی راستے بناتا ہوا سلیمؔ ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا کہو اب خیال کتنا ہے

محبتوں کا کہو اب خیال کتنا ہے مری جدائی کا تم کو ملال کتنا ہے یہ تیرے بعد کھلا اے وصال شہر خیال کہ تیرے شہر میں جینا محال کتنا ہے میں ٹوٹ پھوٹ کے خود ہی سنورتا رہتا ہوں مرے خدا ترا اس میں کمال کتنا ہے ملا نہیں کوئی ایسا کہ جس کے ساتھ رہو سلیمؔ شہر میں قحط‌ الرجال کتنا ہے

مزید پڑھیے

زندگی

مرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر وہ بولی زندگی تو بس یہی ہے

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے رستے میں کھڑے ہو گئے گھر کیوں نہیں جاتے مے خانے میں شکوہ ہے بہت تیرہ شبی کا مے خانے میں با دیدۂ تر کیوں نہیں جاتے اب جبہ و دستار کی وقعت نہیں باقی رندوں میں بہ انداز دگر کیوں نہیں جاتے جس شہر میں گمراہی عزیز دل و جاں ہو اس شہر ملامت میں خضر کیوں ...

مزید پڑھیے

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں آخری کشمکش ہے یہ شاید موج دریا میں اور سفینے میں زندگی یوں گزر گئی جیسے لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں دل کا احوال پوچھتے کیا ہو خاک اڑتی ہے آبگینے میں کتنے ساون گزر گئے لیکن کوئی آیا نہ اس مہینے میں سارے دل ایک سے نہیں ہوتے فرق ...

مزید پڑھیے

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا خود اسے بھی نہیں معلوم ہے منزل اپنی جانے والے سے نہ پوچھو وہ کدھر جائے گا آج اندھیرا ہے تو کل کوئی چراغ امید مطلع وقت پہ سورج سا نکھر جائے گا اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر دار و رسن دل وہ دیوانہ کہ جائے گا مگر جائے ...

مزید پڑھیے

یہ حکایت تمام کو پہنچی

یہ حکایت تمام کو پہنچی زندگی اختتام کو پہنچی رقص کرتی ہوئی نسیم سحر صبح تیرے سلام کو پہنچی روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس کیا شب آخر تمام کو پہنچی شب کو اکثر کلید مے خانہ شیخ عالی مقام کو پہنچی شہر کب سے حصار درد میں ہے یہ خبر اب عوام کو پہنچی پہلے دو ایک قتل ہوتے تھے نوبت اب قتل ...

مزید پڑھیے

دھنک کی بوند

میرا آنسو مجھے واپس دے دو اب میں آنسو نہ بہاؤں گا کبھی میں یہ موتی نہ لٹاؤں گا کبھی یہ بھی دیکھو کہ ہیں اس بوند میں کیا رنگ چھپے سوچتا ہوں کہ دھنک ہے یہ بھی اس میں ہے خون جگر کی سرخی ہے مرے چہرۂ غم ناک کی زردی اس میں درد کی نیلگوں لہروں کی توانائی ہے دل کے تالاب پہ لہراتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4936 سے 6203