خوشی کیا ہے
خوشی کیا ہے خوشی کیا ہے کسی شاخ شجر پر کانپتی رنگین سی چڑیا ذرا جو شاخ صرصر سے ہلی تو اڑ گئی چڑیا
خوشی کیا ہے خوشی کیا ہے کسی شاخ شجر پر کانپتی رنگین سی چڑیا ذرا جو شاخ صرصر سے ہلی تو اڑ گئی چڑیا
کیا زندگی ہماری سب کچھ ہے اپنے بس میں آزاد ہیں فضائیں دنیا ہے دسترس میں کیا کیا ہمیں ملا ہے کچھ وقت کچھ برس میں لیکن جو مڑ کے دیکھیں تھی اک عجب کہانی دشوار کیسا جینا مشکل تھی زندگانی اک آفت مسلسل آلام ناگہانی روزانہ صبح اٹھنا آسان تھا نہ اتنا ہر روز ڈانٹ کھانا ہر روز کا سسکنا ہر ...
اچھی اردو پیاری اردو کچھ دیر تو مجھ سے بات کرو جو نیل گگن سے آئی ہو تو روشن میری رات کرو جو کومل سندر لڑکی ہو تو دل اپنا سوغات کرو جو بازی رکھو چاہت کی تم جیتو ہم کو مات کرو ان پھیکے پھیکے لفظوں پر سب بے جا خوب اکڑتے ہیں سب جانتے ہیں تم بولتی ہو تو پھول لبوں سے جھڑتے ہیں سب ...
موت کے اس طرف کوئی سر نہاں ہے کہ بازار ہے کیا ستاروں کا تاباں کوئی قافلہ یا بلند اور تاریک دیوار ہے خاک اڑتی ہے یا خوشبوئیں ہیں رواں کوئی صحرا ہے یا اک چمن زار ہے کوئی اپنا بھی ہے یا ہجوم بلا شہر اغیار ہے کوئی زندہ بھی ہے یا کہ ہر سمت نعشوں کا انبار ہے اک خلا ہے کہ پھر بار امکان ...
صبح صبح تیار ہوئے اسکول گئے ٹیچر کو دیکھا امی کو بھول گئے ہم بچے ہیں خوابوں میں کھو جاتے ہیں بس میں بیٹھ کے بھی اکثر سو جاتے ہیں بیگ بھرا ہے لیکن کچھ بھی خاص نہیں لنچ کا ڈبہ اگر ہمارے پاس نہیں بوجھ بہت ہے نازک نازک شانوں پر کوئی ترس کھائے ہم ننھی جانوں پر
مجھے معلوم ہے جاناں مرے مرنے پہ تم آنسو بہاؤ گے مری ہر بات تم کو یاد آئے گی بہ مشکل بھول پاؤ گے ذرا سوچو یہ نرمی ہمدمی میں مجھ کو مل جائے تو اچھا ہو مجھے معلوم ہے میری غلطیوں کو سراسر بھول جاؤ گے گلے شکوے کبھی منہ پر نہ لاؤ گے ذرا سوچو تمہاری بے نیازی گر میری موجودگی میں مجھ کو مل ...
یہ تعلیم گر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ اسکول ہے اک خرابوں کی دنیا سوالوں کی بستی جوابوں کی دنیا یہ پنسل یہ کاغذ کتابوں کی دنیا یہ تعلیم گر مل بھی جائے تو کیا ہے نہ انگلش ہی جانوں نہ سوشل ہی بھائے نہ بایو ہی سمجھوں نہ ہندی ہی آئے جو مرضی چلے تو کروں سب کو بائے یہ تعلیم گر مل بھی جائے تو ...
وہ کیسی عورتیں تھیں جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیں جو سل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیں سحر سے شام تک مصروف لیکن مسکراتی تھیں بھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیں جو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیں جو دروازے پہ رک کر دیر تک رسمیں نبھاتی ...
امی کہتیں کھیل نہ کھیلو گھر کے کام میں ہاتھ بٹاؤ ابو کہتے پڑھنے بیٹھو ٹی وی میں مت وقت گنواؤ امی کہتیں برگر چھوڑو گھر کی سبزی روٹی کھاؤ ابو کہتے اپنے درجے میں کم از کم اول آؤ امی کہتیں بارش میں مت بھیگو خود کو خوب بچاؤ ابو کہتے دودھ پیو اور بک لے کر بستر پر جاؤ پیارے بچپن جاؤ ...
''صاحب زادے کرتے کیا ہیں'' لڑکی والوں نے پوچھا ''جب دیکھو فارغ پھرتے ہیں یا پیتے تمباکو ہیں!'' لڑکے کی اماں یہ بولیں کام کرے اس کی جوتی دو بھائی بھتہ لیتے ہیں ابا خیر سے ڈاکو ہیں