ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے
کالی رات کے روشن جگنو ہم دونوں دن کے اجلے بدن کی خوشبو ہم دونوں مدھر راگ پھیلا کر ہر سو ہم دونوں سر پر چڑھ کر بولتا جادو ہم دونوں خود بھی مہکیں اوروں کو بھی مہکائیں ایسے دشت ختن کے آہو ہم دونوں دنیا بھر میں جوگ جگانے کی خاطر در در بھٹکیں بن کر سادھو ہم دونوں درد بھرے جو دل ...
میں یہ چاہوں میں الجھی ہوں تو بھی الجھے پاس مرے آئے اور آ کر بیٹھے سوچے تنہا تنہا درد سمیٹے پھرتی ہوں میں ہمدردی کی کیسی سزا ہے کوئی دیکھے اب سوچوں تو خون کے آنسو دل روتا ہے کتنی ہنستی رہتی تھی میں برسوں پہلے کوئی ہوگا میرا اپنا دل کہتا ہے بچے کی کلکاری کو من میرا ترسے ایک مدت ...
اپنے دشمن کو تو میں ایسی سزا دیتی ہوں قتل کرتی نہیں نظروں سے گرا دیتی ہوں بے ادب لوگ جو ہوتے ہیں مری نظروں میں ان کو محفل سے نہیں دل سے اٹھا دیتی ہوں زعم ہو جس میں تو نرمی سے نہیں ملتی میں تلخ گوئی سے ہی کمزور بنا دیتی ہوں رسم الفت کو نبھانے کے لئے میں اکثر خود کو ناکردہ گناہوں ...
ابلیس مرے دل میں وہ زندہ تمنا دے جو غیروں کو اپنا لے اور اپنوں کو ٹرخا دے بھاشن کے لیے دم دے اور توند کو پھلوا دے پایا ہے جو اوروں نے وہ مجھ کو بھی دلوا دے پیدا دل ووٹر میں وہ شورش محشر کر جو جوش الیکشن میں ڈنکا مرا بجوا دے میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو بھی گھپلا دوں وہ شوق سیاست دے ...
اچھی نظم کی خواہش بالکل بارش جیسی ہوتی ہے گھن گھن بادل گرجے برسے دھوپ بھلے چمکیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل آنسو جیسی ہوتی ہے گرم گرم عارض پر بکھرے چاہے شب برفیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل بچپن جیسی ہوتی ہے چھوٹے چھوٹے برتن ہوں گڑیا ہو اور سہیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل ...
ماں بیٹے کے درمیان ایک منظوم مکالمہ بیٹا بس بہت پڑھ لیا کچھ بھول نہیں جاؤں گا ماں میں بس آج سے اسکول نہیں جاوں گا ماں میرے بیٹے مرے معصوم سے پیارے بچے روز اک تازہ بہانہ نہیں کرتے ایسے اچھا مجھ کو یہ بتاؤ ہے پریشانی کیا تم کو اچھی نہیں لگتی کوئی استانی کیا کون سی بات سے ...
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے میں انجانے پتے پر ایک خط لکھ کر سپرد ڈاک کرتی ہوں جو دل میں معاملات دل ہیں سب صد چاک کرتی ہوں میں لکھ دیتی ہوں ان کے نام بھی جن سے شکایت ہے بتا دیتی ہوں کس کس سے مجھے کتنی محبت ہے تعارف ان کا بھی جن سے بہت نقصان پہنچا ہے جنہیں پانے کو صحرا تک دل ویران پہنچا ...
اللہ میاں پانی برسا دو تپتی گرمی دور بھگا دو میں اک مزدورن کا بچہ بھولا بھالا بالکل سچا کتنا کم کم مانگ رہا ہوں اچھا موسم مانگ رہا ہوں اونچے بنگلے اچھے کھانے میرے گھر چاول کے دانے ایک گھڑا اور ایک چٹائی کچھ چمچے اور ایک کڑھائی سوکھے لب اور آنکھیں پانی رت بھیجو تم خوب سہانی ہم ...
فرض کرو کہ سارے جانور بات بھی کرتے ہم سے ان کے جو جی میں آ جاتا کہہ دیتے ایک دم سے دروازے پر کتا کہتا بھوکے ہیں دو دن کے کوئی دوا بھی دے دو دیکھو مکھی زخم پہ بھنکے باورچی خانے میں چیونٹی شکر مانگتی رہتی بس دو دانے بس دو دانے ہر پھیرے پر کہتی چڑیا اڑتے پھرتے کھڑکی پر آواز لگاتی بچوں ...