ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا
ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا جائیں تو کہاں جیدیؔ ایسی ہے پریشانی بچوں کو سلا دیں تو ہمسایہ نہیں سوتا فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا جائیں تو کہاں جیدیؔ ایسی ہے پریشانی بچوں کو سلا دیں تو ہمسایہ نہیں سوتا فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
کبھی مشکل میں جو پڑ جائے ضرورت محسن مجھے مل پائے گی کیا تیری حمایت محسن ساتھ دیتا ہے شب غم میں کہاں سایہ بھی کیا نبھائے گی وفا تیری محبت محسن وعدہ کر لینا ہے آسان نبھانا مشکل سخت ہوتی ہے بہت راہ مروت محسن راستہ صاف ہو سایہ ہو ہوا ٹھنڈی ہو ہم سفر ایسے میں کرتے ہیں عنایت ...
ایسا یہ درد ہے کہ بھلایا نہ جائے گا معیار عشق ان سے بڑھایا نہ جائے گا اس بار ان سے کہہ دو قدم سوچ کر رکھیں اجڑا جو پھر یہ شہر بسایا نہ جائے گا جو لوگ بغض دل میں چھپائے ہیں آج بھی ان سے مرے مکان میں آیا نہ جائے گا حق بات بولنے سے کیا جس کسی نے خوف محفل میں پھر کبھی بھی بلایا نہ جائے ...
رات پھر خواب میں آنے کا ارادہ کر کے چاند ڈبا ہے ابھی محو نظارہ کر کے تشنگی حد سے گزر جائے گی ساحل کے قریب فائدہ کیا ہے سمندر کا تقاضا کر کے حیرتی ہوں ابھی ٹوٹا ہے بھرم الفت کا دے گیا مات وہ پھر مجھ کو بہانا کر کے کرتا رہتا تھا مذاہاً وہ بہت سی باتیں اب رقم کرتے رہے اس کو فسانہ کر ...
یہ لوگ مجھ کو بتا رہے ہیں ہماری آنکھیں بہت ہیں روشن یہ برق جیسی چمک رہیں ہیں کہ جگنوں کی تڑپ رکی ہو ہے بے قراری غزال جیسی خمار کی سی ہے کیفیت بھی دھنک کے جتنے بھی رنگ ہوں گے ہماری آنکھوں میں بس گئے ہیں مگر اے جاناں انہیں بتاؤں میں کس طرح سے یہ جگمگاتی یہ جھلملاتی سی میری ...
خموشی سے دبے پاؤں بھری محفل سے اٹھتے ہو کھلے آکاش کے نیچے کہیں پر بیٹھ جاتے ہو پھر اپنا ہاتھ ہولے سے بڑھاتے ہو چمکتے چاند کی جانب کبھی تو مسکراتے ہو کبھی کچھ گنگناتے ہو جو میرؔ و دردؔ کی غزلیں کبھی ہم کو سناتے تھے وہی سرگوشیاں مجھ سے جو اکثر کرتے رہتے تھے ہوا کے دوش پر بیٹھی کرن ...
چمکیلا سا بھڑکیلا سا اطراف میں جس کے جنتا تھی اسٹیج پہ کچھ سجن تھے کھڑے کچھ جھنڈے تھے کچھ نعرے تھے کچھ لمبی لمبی باتیں تھیں کچھ بھاری بھاری وعدے تھے ان باتوں کا ان وعدوں کا بس ہم سے اتنا رشتہ ہے کے ووٹ انہیں ہم دیں دیں سب سرکار انہیں کی چن لیں ہم راج انہیں کا چلنے دیں ہر سمت انہیں ...
جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیا کچھ یادیں ان میں باقی ہیں فریادیں بھی کچھ باقی ہیں شہنائی کا ہے کوئی مدھم سر ان دیواروں میں گونج رہا آؤ چلیں اس کھنڈر میں جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیا کچھ سائے ہمارے بچپن کے کچھ یاد ہمارے لوگوں کی اس کھنڈر سے وابستہ ہیں تھی نقش بہت سی تصویریں اس کھنڈر کی دیواروں پر تم ...
اس شہر میں اب آئنہ سامانی کرو ہو تم جس پہ ازل سے ہی حکمرانی کرو ہو اک عرصہ ہوا کوچۂ جاناں ہوا ویران پھر بھی تم اسی شہر کی نگرانی کرو ہو پھول اگتے تھے جس جا وہیں اگ آئیں ہیں کانٹے کیا ایسے گلستاں کی نگہبانی کرو ہو ہر بات سر بزم بھلا کرتا ہے کوئی کیوں اپنے ہی جذبات کی عریانی کرو ...
موج لیتے ساحل پر یا کسی ویرانے میں شام کے دھندلکے میں تیز چڑھتی سانسوں میں انتہا محبت کی دیکھنا جو چاہو تو دن نکلتے لمحوں میں ننگے پیر چلتے تم آؤ ایسے صحرا میں جس میں مختلف رنگوں مختلف قبیلوں کے ڈھیر سارے پنچھی ہوں ان کی بولیوں پر پھر غور سے توجہ دو یہ چہکتے پنچھی سب اپنی اپنی ...