تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہے
تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہے دولت اک دن برسے گی اب تو اپنی باری ہے اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے اس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے
تعبیروں کی حسرت میں کیسے کیسے خواب رہے دولت اک دن برسے گی اب تو اپنی باری ہے اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے اس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے
کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعد رقم کے وعدے پر اس کو اگر بلایا تو دے کوئی تو ڈھونڈ کے لائے کہ منتظم ہے کہاں لفافہ گر نہیں دیتا نہ دے کرایہ تو دے
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کو اس دعا میں عجب اثر آیا میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی آنکھ میں موتیا اتر آیا!!
ناکام محبت کا ہر اک دکھ سہنا ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدیؔ محبوبہ کی اولاد کا ''ماموں'' کہنا
داخلہ اس نے کالج میں کیا لے لیا لڑکیوں میں بڑا معتبر ہو گیا کھڑکیوں سے نظر اس کی ہٹتی نہیں میرا بیٹا تو بالغ نظر ہو گیا
شاعروں نے رات بھر بستی میں واویلا کیا داد کے ہنگامہ سے پورا محلہ ڈر گیا اک ضعیفہ اپنے بیٹے سے یہ بولی اگلے روز رات کیسا شور تھا کیا کوئی شاعر مر گیا
کس قدر ظالم و وحشی تھا وہ پاگل موذی کاٹ کر سارے ہی دانتوں کے نشاں چھوڑ دیا ہے عجب بات کہ لیڈر تو بھلا چنگا رہا آئینہ دیکھا جو کتے نے تو دم توڑ دیا
ہیں شاعر و ادیب و مفکر عظیم تر اور پھر بھی انکسار سے ملتے ہیں سب سے وہ کچھ اور بھی ادب میں بڑھا ان کا مرتبہ بائیسویں گریڈ میں آئے ہیں جب سے وہ
ہماری عید ہے ہم ہر طرح منائیں گے ہمارا شیخ کے فتوے پہ اعتبار نہیں ہمارے ڈپٹی کمشنر نے چاند دیکھا ہے ہمیں خبر ہے کہ وہ غیر ذمہ دار نہیں
ہمارے علم نے بخشی ہے ہم کو آگاہی یہ کائنات ہے کیا اس زمیں پہ سب کیا ہے مگر بس اپنے ہی بارے میں کچھ نہیں معلوم مروڑ کل سے جو معدے میں ہے سبب کیا ہے