قومی زبان

حریم حسن سے آنکھوں کے رابطے رکھنا

حریم حسن سے آنکھوں کے رابطے رکھنا تمام عمر تحیر کے در کھلے رکھنا حصار آئینہ و خواب سے نکلنے تک شکست ذات کا منظر سنبھال کے رکھنا یہ بارگاہ محبت ہے میری خلوت ہے مرے حریف قدم احتیاط سے رکھنا فراز کوہ شب غم سے دیکھنا ہے اسے مرے خدا مری قسمت میں رت جگے رکھنا گرا دیا جسے اک بار اپنی ...

مزید پڑھیے

حرماں کے دائرے سے نکل جانا چاہئے

حرماں کے دائرے سے نکل جانا چاہئے جو بجھ گیا چراغ وہ جل جانا چاہئے آؤ کہ لب پہ شعلۂ حرف نوا سہی یہ رات کا حصار پگھل جانا چاہئے اٹھنے لگا نوشتۂ دیوار سے دھواں اس وقت آدمی کو سنبھل جانا چاہئے شہر انا میں پھر کوئی پتھر اچھال دوں اس بار پھر حریف کو جل جانا چاہئے حالات کے سبو میں جو ...

مزید پڑھیے

پھر وہی تجدید موسم ہو گئی

پھر وہی تجدید موسم ہو گئی وہ لہو برسا زمیں نم ہو گئی برگ و گل کے جسم نیلے پڑ گئے باغ کی تازہ ہوا سم ہو گئی کیا کہا موج ہوا نے شام سے لو چراغوں کی جو مدھم ہو گئی کیا خبر کس سوچ میں ڈوبا ہے چاند بام و در کی روشنی کم ہو گئی عشق کا میدان خالی ہو گیا شوق کی تلوار بے دم ہو گئی آسماں سے ...

مزید پڑھیے

ہم تصور میں ان کے ابھرنے لگے

ہم تصور میں ان کے ابھرنے لگے چشم آہو میں منظر سنورنے لگے قاعدہ کلیہ ہم نہیں جانتے سجدہ کرنا تھا بس سجدہ کرنے لگے اے گناہو بتاؤ کہاں ٹھہرو گے آسماں سے صحیفے اترنے لگے جب بھی روشن ہوا ہے الاؤ کوئی ہم تری راہ گزر سے گزرنے لگے پارسائی کی ہے دھوم اب کے مچی دیکھو جوہرؔ بھی اب تو ...

مزید پڑھیے

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی وہ ذرا خوف جہاں دل سے مٹائے تو سہی کیسے اٹھتے ہیں قدم دیکھیے منزل کی طرف دل کے ارشاد پہ سر کوئی جھکائے تو سہی اس کے قدموں میں رفاقت کے خزانے ہوں گے میری جانب وہ قدم اپنے بڑھائے تو سہی جذبۂ جوش محبت تجھے سو بار سلام میری آہٹ پہ وہ دہلیز تک آئے تو ...

مزید پڑھیے

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے کہیں پر آدمیت زندہ رہنے کو ترستی ہے جہان زندگی کی قدرتی تصویر ہیں دونوں کہیں سوکھا پڑا ہے اور کہیں بارش برستی ہے تری دولت تجھے کیا فیض پہنچائے گی تیرے بعد میسر زندگی جتنی بھی قیمت پر ہو سستی ہے کسی قابل میں ہوتا تو کبھی کا قتل ہو جاتا کہ ہر ...

مزید پڑھیے

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا خورشید محبت کا چھپا ہے نہ چھپے گا ہو جاتے ہیں ناکام خرد مندوں کے فتنے سر اہل جنوں کا نہ جھکا ہے نہ جھکے گا تم کیوں ہو پریشان کہ تقدیر کا لکھا دنیا کے مٹانے سے مٹا ہے نہ مٹے گا ترکش سے تکبر کے جو اترا کے چلا ہے وہ تیر نشانے پہ لگا ہے نہ لگے ...

مزید پڑھیے

اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح

اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح ہر شخص جی رہا ہے اداکار کی طرح میں چل رہا ہوں بادل نا خواستہ مگر حالات کی گرفت میں پتوار کی طرح جو پھول سے بھی ہلکا تعلق تھا ان دنوں لگنے لگا ہے کوہ گراں بار کی طرح یہ مصلحت نہیں ہے تو پھر ان کے سامنے خاموش کیوں کھڑے ہو گنہ گار کی طرح طالبؔ ...

مزید پڑھیے

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں در حقیقت یہ کرشمے مری تقدیر کے ہیں قابل داد نہیں کیا وہ مصور لوگو شہر در شہر جو چرچے کسی تصویر کے ہیں تشنہ لب جو لب دریا پہ بھی ہیں رہتے ہوئے وہ ستائے ہوئے بگڑی ہوئی تقدیر کے ہیں حوصلہ فتح کا ضامن ہوا کرتا ہے مگر میرے دشمن ہیں کہ قائل مری ...

مزید پڑھیے

حدیث دل بیاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے

حدیث دل بیاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کسی کو راز داں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی ہے جس کے دل میں آج تک ہم گھر نہ کر پائے کسی کو مہرباں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے وہ جادوگر کی صورت جھوٹ کو سچ کر دکھاتے ہیں کسی کو بد گماں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی تو کشمکش ہے دل میں شاید حشر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4812 سے 6203