دھنک رنگ
پہاڑی کے اس پار کوئی دھنک ہے نہیں ہے دھنک کے سرے پر کوئی جادو نگری پرستاں خزانہ مرا منتظر ہے نہیں ہے مجھے کوئی دھوکا نہیں ہے سمندر کے اس پار سے آنے والی ہواؤں میں کوئی سندیسہ نہیں ہے اگر کچھ نہیں ہے تو ساری تگ و دو یہ امروز و فردا کے سب سلسلے کس لئے ہیں افق سے پرے مرغزاروں کی آخر ...