قومی زبان

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا اس پرندے کو جب رہا کیا تھا کم اذیت میں جان چھوٹ گئی اپنے قاتل سے مشورہ کیا تھا خاک سے جتنا زہر جذب کیا اپنی شاخوں سے رونما کیا تھا میں نے اک دن بٹھا کے بچوں کو اپنے اجداد کا گلا کیا تھا ہم سے سرزد ہوا تھا کار خیر کیا بتائیں کہ ہم نے کیا کیا تھا ویسے ...

مزید پڑھیے

دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پریشانی کو یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو بے گھری کا مجھے احساس دلانے والے تو نے برتا ہے مری بے سر و سامانی کو شرمساری ہے کہ رکنے میں نہیں آتی ہے خشک کرتا رہے کب تک کوئی پیشانی کو جیسے ...

مزید پڑھیے

ذہن تھکا ہے

موسم آیا چھٹی کا ہر لمحہ بے فکری کا کھیل کوئی ہم کھلیں گے ہر دن اپنی مرضی کا ذہن تھکا ہے پڑھ لکھ کر عیش کریں گے اب جی بھر

مزید پڑھیے

معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو

معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو مہرباں دعاؤں میں خاندان رہنے دو مضمحل سے بام و در خستہ حال دیواریں باپ کی نشانی ہے وہ مکان رہنے دو پھیلتے ہوئے شہرو اپنی وحشتیں روکو میرے گھر کے آنگن پر آسمان رہنے دو آنے والی نسلیں خود حل تلاش کر لیں گی آج کے مسائل کو خوش گمان رہنے دو الجھے ...

مزید پڑھیے

ائیرپورٹ اسٹیشن سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ

ائیرپورٹ اسٹیشن سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ جانے کون سے سکھ کی خاطر پھرتے مارے مارے لوگ شام گئے یہ منظر ہم نے ملکوں ملکوں دیکھا ہے گھر لوٹیں بوجھل قدموں سے بجھے ہوئے انگارے لوگ سب سے شاکی خود سے نالاں اپنی آگ میں جلتے ہیں دکھ کے سوا اور کیا بانٹیں گے ان جیسے اندھیارے لوگ پر نم ...

مزید پڑھیے

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے کچھ ایسے کار جہاں میں کھوئے کہ اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے یہ ناامیدی کی انتہا ہے کہ آگہی کی ہے کوئی منزل یہ دل کو کیا عارضہ ہوا ہے اسے کسی سے گلہ نہیں ہے ہمیشہ سچ بولنے کی عادت ہے کیا یہ سچ بولتے رہیں گے قدم قدم پر ہے آزمائش سہل ...

مزید پڑھیے

کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی

کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی کہ اب تو دل کے سناٹے سے بھی وحشت نہیں ہوتی زمانے بھر کے غم اپنا لئے ہیں خود فریبی میں خود اپنے غم سے ملنے کی ہمیں فرصت نہیں ہوتی گزر جاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی قسم کھائی ہے ہم نے بارہا خاموش ...

مزید پڑھیے

یہ دل بس میں کبھی میرے رہا نئیں

یہ دل بس میں کبھی میرے رہا نئیں کبھی یادوں کا دامن چھوڑتا نئیں بھلائیں کیسے امروہے کی گلیاں ابھی لہجے سے امروہہ گیا نئیں یہیں گم کردہ اپنا آشیاں تھا جہاں باقی کوئی اب آشنا نئیں شکستہ ہو چکے محراب و در سب ابھی تک ذہن سے نقشہ گیا نئیں ہمارے نام کی تختی نہیں ہے مگر وہ گھر تو ...

مزید پڑھیے

اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے

اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے اپنی ہی جرأت اظہار سے ڈر لگتا ہے اتنی راہوں کی صعوبت سے گزر جانے کے بعد اب کسے وادیٔ پر خار سے ڈر لگتا ہے کتنے ہی کام ادھورے ہیں ابھی دنیا میں عمر کی تیزئ رفتار سے ڈر لگتا ہے ساری دنیا میں تباہی کے سوا کیا ہوگا اب تو ہر صبح کے اخبار سے ڈر لگتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4784 سے 6203