قومی زبان

داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا

داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر زیر پا اک رہگزر تھی رہ گزر رہنے دیا دل کے ہر موسم نے بخشی دولت احساس و درد صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا ساتھ اک خوش باش لہجہ محفلوں میں لے کے آئے دل کی ویرانی کو تنہا ...

مزید پڑھیے

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں عجیب موسم دل ہے عجیب مجبوری نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں حقیقتیں تو مرے روز و شب کی ساتھی ہیں میں روز و شب کی حقیقت بدلنا ...

مزید پڑھیے

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں کیسے گھبرائے سے پھرتے ہیں مرے خال غزال زندگانی کی ...

مزید پڑھیے

انہیں مجھ سے شکایت ہے

انہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں ماضی میں جیتی ہوں مرے اشعار میں آسیب ہیں گزرے زمانوں کے وہ کہتے ہیں کی یادیں سائے کی مانند میرے ساتھ رہتی ہیں یہ سچ ہے اس سے کب انکار ہے مجھ کو میں اکثر جاگتے دن میں بھی آنکھیں موند لیتی ہوں کوئی صورت کوئی آواز کوئی ذائقہ یا لمس جب جادو جگاتا ہے تو گرد ...

مزید پڑھیے

ہار سنگار

تم نے دیکھے ہیں کبھی ہار سنگار وہ دل آویز سے معصوم سے دو رنگے پھول رات کو شاخ پہ کھلتے تھے ستاروں کی طرح وہ بھلا دن کی تمازت کے ستم کیوں سہتے اس لیے آخر شب اپنے ہی حسن سے بے خود ہو کر اوس سے بھیگے ہوئے فرش پہ کس پیار سے بچھ جاتے تھے جیسے کل رات یہاں زعفراں رنگ کی چادر پہ بکھیرے ہوں ...

مزید پڑھیے

نقرئی طلسم

رات تاریک تھی اک کالے سمندر کی طرح اجنبی دیس تھا تنہائی تھی جگمگاتے ہوئے بازاروں کی بے کیف فضا اور بوجھل سا کئے دیتی تھی جسم و جاں کو شہر کی حد سے پرے دور تک پھیلے ہوئے ریت کی سفاکی تھی آسمان دھول میں لپٹا ہو تا حد نظر کوئی سایہ نہ سراب کار میں بجتا ہوا گیت بھی الفاظ کی تکرار ...

مزید پڑھیے

اکثر ایسا ہوتا ہے

بیتے موسم کی خوشبو سے مہکے تتلی لمحے خشک لبوں کو چھو لیتے ہیں ساری کڑواہٹ تن من کی ایک غزل ہو جاتی ہے کبھی کہیں کوئی سچی بانی کوئی دیپک سا لہجہ مدھم سر میں ڈھلتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے ڈھول پیٹتے لفظ نہ جانے کیسے گم ہو جاتے ہیں ایک سریلی سی شہنائی پریم سدھا بن جاتی ہے اکثر ایسا ہوتا ...

مزید پڑھیے

ریموٹ

دمکتے چہرے گھنیری زلفیں یہ سرسراتے ہواؤں جیسے لباس جسموں کا بانکپن دل ربا ادائیں یہ جھلملاتے مکان رنگین شہر چمکیلی کاریں یہ سب مناظر جو راحتوں کے سراب دکھلا کے خواہشوں کے لطیف پیکر تراش کر خواب بیچتے ہیں بہت حسیں ہیں یہ کیا ہوا بس پلک جھپکتے ہی سارے منظر بدل گئے ہیں یہ خوں میں ...

مزید پڑھیے

جادو نگری

زندگی کی تلخیاں ناکامیاں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیں روز و شب کو مضمحل کر دیں تو میرے ساتھ آؤ ذرا ٹھہرو میں اپنی جادو نگری کی جھلک دکھلاؤں تم کو وہ دیکھو کس طرح سے آسماں کے کینوس پر بادلوں کا رقص ہوتا ہے کبھی تم نے گھنے جنگل میں شاخوں سے ٹپکتے شبنمی موتی نہیں دیکھے کبھی سرما کی رت ...

مزید پڑھیے

خواب جنگل

نیند پالکی اتری رات دور جنگل میں خواب خواب منظر تھا دھیرے دھیرے بہتی تھی سمفنی ہواؤں کی رات چاند بادل میں چاندنی کی بانہوں میں جھیل والتز کرتی تھی دھیمی دھیمی سی خوشبو ساتھ ساتھ چلتی تھی کنج میں درختوں کے بے خودی کے عالم میں مست ڈار ہرنوں کی بیلے رقص کرتی تھی ہرنیوں کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4782 سے 6203