قومی زبان

سپاس نامۂ بہار غم

جشن بہاراں میں آج قصیدۂ گل چھیڑیں محفل میں رنگ بھر دیں اور عنایت گل کا پھر بہار کو احسان مند کر دیں کہ جیسے سعادت غم سے گراں بار دل زخم زخم گل سے بہار جاں فزا کا سزاوار اک الگ طرح سے پھر اس گل پیرہن کو آج دل سوزیٔ جاں کا قرض اٹھائے سپاس نامۂ بہار غم میں مرحبا مرحبا کہہ دیں

مزید پڑھیے

انحراف

اتنی اونچی آواز کس کی ہے کس نے دستور سے انحراف کیا اس طوطی کے نقار خانے میں کس نے زنجیر حبس کو ساز کیا کون اٹھتا اس جہان سراسیمہ میں اہل جنوں نے ہی طبل سے آغاز کیا دن منایا جا رہا ہے گھر کے باہر آج میرا عالمی دن ہے بہت شور و غوغا ہے اور گھر کے اندر کولہو کے بیل کی طرح میں اپنے دائرے ...

مزید پڑھیے

زندگی

پھولوں کی سیج بھی نئیں اور سراسر غم کا افسانہ بھی نئیں کچھ کیف ہے کچھ کڑواہٹ بھی کچھ دلچسپ ہے کچھ اکتاہٹ بھی کچھ غم ہے کچھ راحت بھی سب کچھ ہے مگر سچ ہے یہ بھی اس سے بڑا کوئی سراب خانہ بھی نئیں میں نے تمہیں خط لکھا تھا ملا ہوگا تمہارے خط تو مجھے مل جاتے ہیں جو تم ہواؤں کے ہاتھ بھیجا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت ہے اک جیت ہار کا موسم

ہر ایک سمت ہے اک جیت ہار کا موسم اب ایک خواب سا لگتا ہے پیار کا موسم اسی کو گردش لیل و نہار کہتے ہیں کبھی خزاں ہے کبھی ہے بہار کا موسم چمن میں دھوم مچی ہے کہ فصل گل آئی یہی ہے دامن صد تار تار کا موسم اب اس کو یاد دلانے کا فائدہ ہی نہیں وہ بھول بھی چکا قول و قرار کا موسم ہر اک شکست ...

مزید پڑھیے

کوئی کمی ضرور تھی تیرا کرم نہ مل سکا

کوئی کمی ضرور تھی تیرا کرم نہ مل سکا چھوڑ دیا صنم کدہ پھر بھی حرم نہ مل سکا ہم کو بھی تھی یہ آرزو چلتے کسی کے ساتھ ساتھ لوگ تو کتنے ہی ملے جذب بہم نہ مل سکا یہ بھی ہے اپنی ہی خطا دل میں کوئی نہیں بچا شمع کوئی نہ جل سکی کوئی صنم نہ مل سکا وقت کے میر و شہریار درپئے جاں ہیں اس ...

مزید پڑھیے

ہنس لیں یہ ستارے بھی ابھی رات کے اوپر

ہنس لیں یہ ستارے بھی ابھی رات کے اوپر دن چڑھتے ہی آ جائیں گے اوقات کے اوپر بن جائے نہ ویرانئ دل اپنی تماشا ہم خول چڑھا لیتے ہیں اک ذات کے اوپر پہلے تو سمجھتے رہے ہر شے کو تماشا اب روکے بھی کیا کیجئے حالات کے اوپر دیکھا ہے اچھلتی ہوئی دستاروں کا منظر اک فتنۂ دوراں سے ملاقات کے ...

مزید پڑھیے

جانے کتنوں کے لیے رشک کا محور ٹھہرا

جانے کتنوں کے لیے رشک کا محور ٹھہرا تیرا زخمی بھی تو قسمت کا سکندر ٹھہرا لذت درد کی بڑھتی ہی چلی آتی ہے طرب انگیز بہت ایک ہی نشتر ٹھہرا بھر گئیں ذہن میں رعنائیاں اک جلوے سے ہو کہیں جیسے کوئی پریوں کا لشکر ٹھہرا کیا شکست اس کو بھلا گردش دوراں دے گی خاک کا ڈھیر ہی جس کے لیے بستر ...

مزید پڑھیے

بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا

بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا کہیں سراغ وفا قصہ مختصر نہ ملا مچل رہے تھے جبین نیاز میں سجدے یہ اور بات مقدر سے سنگ در نہ ملا کریدتے رہے سب دوست میرے زخموں کو سبھی نے طنز کیے کوئی چارہ گر نہ ملا وہ کربلا تو نہیں دوستوں کی بستی تھی تڑپتے رہ گئے پانی کو بوند بھر نہ ملا ہجوم ...

مزید پڑھیے

روشن نہ ہوئی تھی صبح ابھی منہ کھول رہی ہے شام کہیں

روشن نہ ہوئی تھی صبح ابھی منہ کھول رہی ہے شام کہیں آغاز نہ ہونے پایا تھا اور ہونے لگا انجام کہیں اس دنیا میں کیا ملنا ہے بس ارمانوں کے خوں کے سوا اے خواب حسیں تیرے چلتے ہو جائیں نہ ہم بدنام کہیں مانند صبا آوارہ ہم پھرتے ہی رہے شہروں شہروں رمتا جوگی بہتا پانی ہے صبح کہیں تو شام ...

مزید پڑھیے

غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا

غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا ایک صحرائے الم تھا ہم سفر کوئی نہ تھا اس کو بھی ہم نے یہی سمجھا تماشا ہے کوئی جب کھلیں آنکھیں نشان سنگ در کوئی نہ تھا وقت ہم کو ٹھوکروں پر ٹھوکریں دیتا رہا اور اپنے ہاتھ میں تیر و تبر کوئی نہ تھا قریۂ بیداد خواہاں کی شکایت ہے عبث شہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4765 سے 6203