قومی زبان

فضا میں آج ہے طاری فسردگی کتنی

فضا میں آج ہے طاری فسردگی کتنی ہے دل گداز عنادل کی بے بسی کتنی چلو جلائیں ہر اک سمت آگہی کے چراغ یہی ہے وقت کہ ہر سو ہے تیرگی کتنی نہ آندھیوں کے تھپیڑے بجھا سکے اس کو چراغ راہ گزر میں تھی زندگی کتنی نظر لگے نہ کہیں اب ہوا سے لڑتا ہے مزاج یار میں ہے آج برہمی کتنی لپٹ لگی جو محل ...

مزید پڑھیے

لہو میں ڈوب کے نکلی حکایتیں چپ ہیں

لہو میں ڈوب کے نکلی حکایتیں چپ ہیں معاملہ ہے ہمارا عدالتیں چپ ہیں یہی ہے وقت کا دستور آج کل شاید تمام شہر جلا اور شہادتیں چپ ہیں یہ کس کا غمزۂ خوں ریز ہے کہ محفل میں کسی میں دم نہیں سب کی جسارتیں چپ ہیں نہ ہوگا کچھ بھی تو حاصل سوا شماتت کے یہ سوچ سوچ کے اپنی جراحتیں چپ ہیں نہ ...

مزید پڑھیے

اب اور دامن دل تار تار کیا کرتے

اب اور دامن دل تار تار کیا کرتے الم نصیب امید بہار کیا کرتے سمجھ لیا تھا سر شام تم نہ آؤ گے تمام رات بھلا انتظار کیا کرتے سبک خرام تھے سب شاہراہ ریشم پر یہ موج خوں ملی جن کو وہ پار کیا کرتے تھی جب نصیب میں آوارگی بگولوں کے بکھر نہ جاتے جو مثل غبار کیا کرتے ہدف بناتے کسے کج کلاہ ...

مزید پڑھیے

اٹوٹ انگ

مرا سر تم اپنے ہی زانو پہ رکھ کر مجھے پوچھتی ہو! کہ میں کون ہوں کیا ہوں، کیسے ہوں؟ سارے سوالوں کو مٹھی میں رکھ کر ذرا میری اک بات سن لو سنو! یہ تمہارے بدن کا خمار آشنا کیف۔۔۔ نرم و مسلسل مجھے لذتوں کے عمق میں لیے جا رہا ہے میں پل پل کبھی لحظہ لحظہ کبھی دھیرے دھیرے کبھی لمحہ لمحہ ...

مزید پڑھیے

جگہ پھولوں کی رکھتے ہیں گھنا سایہ بناتے ہیں

جگہ پھولوں کی رکھتے ہیں گھنا سایہ بناتے ہیں چلو اپنے خیالی شہر کا نقشہ بناتے ہیں ابھی تو چاک پر ہیں کیا کہیں ہم اپنے بارے میں نہ جانے دست کوزہ گر ہمیں کیسا بناتے ہیں بنانی ہے ہمیں تصویر دل کاغذ پہ لیکن ہم کبھی دریا بناتے ہیں کبھی صحرا بناتے ہیں غزل اس کے لئے کہتے ہیں لیکن ...

مزید پڑھیے

اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے تیرے غم کو نہال رکھا ہے شاعری کیا ہے ہم نے جینے کا ایک رستہ نکال رکھا ہے ہم نے گھر کی سلامتی کے لئے خود کو گھر سے نکال رکھا ہے میرے اندر جو سرپھرا ہے اسے میں نے زنداں میں ڈال رکھا ہے ایک چہرہ ہے ہم نے جس کے لئے آئنوں کا خیال رکھا ہے اس برس کا بھی نام ہم ...

مزید پڑھیے

دل پیاسا اور آنکھ سوالی رہ جاتی ہے

دل پیاسا اور آنکھ سوالی رہ جاتی ہے اس کے بعد یہ بستی خالی رہ جاتی ہے بے خوابی کب چھپ سکتی ہے کاجل سے بھی جاگنے والی آنکھ میں لالی رہ جاتی ہے تیر ترازو ہو جاتا ہے آ کر دل میں ہاتھوں میں زیتون کی ڈالی رہ جاتی ہے دھوپ سے رنگ اور ہوا سے کاغذ اڑ جاتے ہیں ذہن میں اک تصویر خیالی رہ جاتی ...

مزید پڑھیے

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں گرتے ہوئے درخت سے کتنا بڑا ہوں میں پرچم ہوں روشنی کا مرا احترام کر تاریکیوں کا راستہ روکے کھڑا ہوں میں میرے ہرے وجود سے پہچان اس کی تھی بے چہرہ ہو گیا ہے وہ جب سے جھڑا ہوں میں مت سوچ یہ کہ میری کسی نے نہیں سنی یہ دیکھ اپنی بات پہ کتنا اڑا ...

مزید پڑھیے

گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے

گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے میں خود سے روٹھ گیا ہوں اسے مناتے ہوئے یہ زخم زخم مناظر لہو لہو چہرہ کہاں چلے گئے وہ لوگ ہنستے گاتے ہوئے نہ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزادی تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے ہے اب بھی بستر جاں پر ترے بدن کی شکن میں خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ...

مزید پڑھیے

یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے

یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے کہ اس نے ہم کو رلایا نہیں بہت دن سے چلو کہ خاک اڑائیں چلو شراب پئیں کسی کا ہجر منایا نہیں بہت دن سے یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے ہر ایک شخص یہاں محو خواب لگتا ہے کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4766 سے 6203