بند ہتھیلی میں ہیں سب
بند ہتھیلی میں ہیں سب جنگل ویرانے اور شب دریا اتر گیا تو کیا نیا ڈوب گئی ہے اب پلکیں نم تھیں اور کوئی میرے سنگ نہ رویا تب لوگ مجھے پاگل کہتے سچ کے موتی چنتی جب جیون مجھ سے روٹھ گیا بیناؔ دستک دی تو کب
بند ہتھیلی میں ہیں سب جنگل ویرانے اور شب دریا اتر گیا تو کیا نیا ڈوب گئی ہے اب پلکیں نم تھیں اور کوئی میرے سنگ نہ رویا تب لوگ مجھے پاگل کہتے سچ کے موتی چنتی جب جیون مجھ سے روٹھ گیا بیناؔ دستک دی تو کب
ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں خود بخود راہ کے آثار بدل جاتے ہیں ہم تو ان لوگوں میں شامل ہیں ہمارا کیا ہے جو امیدوں کے سہارے ہی بہل جاتے ہیں میری آنکھوں میں ترے ہجر کے آنسو ہیں جمے وہ مرے جذبوں کی حدت سے پگھل جاتے ہیں صبح صادق کی طرح اجلے ہیں جذبے ان کے جو برے وقت میں گر کے ...
کٹی پتنگ ہوں میں اور بے سہارا ہوں مجھے کہا نہیں اس نے کہ میں تمہارا ہوں یہ مجھ میں آتش بے سوز جلتی رہتی ہے میں روشنی ہوں میں جگنو ہوں استعارہ ہوں ترے حصول کی گردش میں کھو گئی ہوں میں مجھے بتا کہ میں ذرہ ہوں یا ستارا ہوں میں ایک قطرۂ شبنم ہوں دیدہ ور کے لیے جو کج نگاہ ہیں ان کے ...
اور ہوا دوں دل میں آگ بھڑکتی کو شعلہ شعلہ راکھ کرے جو ہستی کو دل تھا ایک بگولا ہجر کے صحرا میں ناچ رہا تھا لے کر وصل کی مستی کو آنکھ کے نخلستان میں ریت بکھرتی ہے کون سا رستہ جاتا ہے اس بستی کو گاؤں سے جو خواب اٹھا کر نکلا تھا شہر میں آ کر بھول گیا پگڈنڈی کو میرا دل تو خالی ہے اب ...
رات کا آخری پہر بھی رخت سفر باندھ رہا ہے میرے کمرے میں خاموشی اور تاریکی دو بوڑھی سہیلیوں کی طرح ایک دوسرے میں گم ہیں میں ہاتھ میں گرم چائے کی پیالی لیے سوچ رہی ہوں کہ مجھے کیا سوچنا چاہیے کیا اسے جو میرا کچھ بھی نہیں تو پھر اسے کیا سوچنا چلو اپنے مستقبل کے روشن خواب آنکھوں میں ...
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ دھوپ اور چھاؤں کے کھیل میں یک دم سلگتے گلاب تر ہوں گے بنجر زمین اور پیڑ پر اس قدر ثمر ہوں گے
وہ تو سب کچھ ہو گیا جس کا اس نے سوچا تھا اونچے برج پہ پہنچا تھا ڈھول کی تھاپ پہ ناچے تھے خوابوں کی تعبیر کا ورد اور ہاتھ میں تسبیح سر پر ٹوپی نیت کا پنچھی خوف کے مارے خود سر لمحے کی گرفت میں آ کر بیچارہ جکڑا اور بے بس پڑا تھا اب کیا ہوگا ہاتھ اٹھا کر رب کی جانب آنکھ پر نم نے اک سوال ...
میرے جسم کی طرح مجھ سے تم لا تعلق ہو نہ جانا مجھے تم شیلف میں پڑی اداس کتاب کے بدن میں چھپا تو دو گے مگر جب اداسی حد سے بڑھنے لگے مجھے تم لکھنا چاہو تو الفاظ کے چناؤ میں وقت کی ڈوری ٹوٹ نہ جائے خیال رکھنا قلم میں سیاہی بھر لینا مگر اتنی بھی نہیں کہ اندھیرا گھپ اندھیرا ہو جائے سب کچھ ...
جوانی میں کیا رکھا ہے چلو پھر واپس مڑ جائیں دیکھ لیا ایک ہی دن میں ملنا اور ملتے ہی بچھڑ جانا خالی ہاتھوں کے کشکول میں بوند بوند خوشیوں کا امرت ٹپکنا اور پھر آن کی آن میں اس کا مئے مرگ سے بھر جانا دیکھ لیا سوچوں کی کھیتی پہ آس کا بادل برسا تو دکھ کے آنگن میں سکھ کا سپنا بویا مگر چلو ...
چکر کھاتی چرخی پر گھوم کر تیرے ہاتھوں میں پانی کے چند ہی قطروں سے میں اپنے آپ سمٹ جاتی کبھی گول رکابی کے جیسی کبھی چپٹی کاسوں کی پیالی کبھی گرم الاؤ اور ٹھنڈے جذبے میں اپنے اندر سمو جاتی میری قیمت تو نے کیا جانی جب اعلیٰ کانچ کے برتن آئے تو نے جھٹ سے مجھ کو توڑ دیا میرے بھولے ...