قومی زبان

پڑے ہیں راہ میں جور و جفا کے سلسلے کتنے

پڑے ہیں راہ میں جور و جفا کے سلسلے کتنے مرے سر سے گزرنے کو ابھی ہیں حادثے کتنے کبھی شعلے پئے میں نے کبھی طوفاں سے ٹکرایا مرے سینے پہ لکھے ہیں جنوں نے حوصلے کتنے ادھر لوہے کے دروازے ادھر چاندی کی دیواریں ابھی انسان سے انسان تک ہیں فاصلے کتنے بکھر کر ایک دل ڈھلتا ہے کتنے ہی ...

مزید پڑھیے

غم بہار میں راہ خزاں سے گزرے ہیں

غم بہار میں راہ خزاں سے گزرے ہیں دلوں کے قافلے ہر امتحاں سے گزرے ہیں جنوں کی روشنی لے کر نگاہبان حیات حدود ظلمت وہم و گماں سے گزرے ہیں چراغ بن کے جلے ہیں رہ تمنا میں بہار بن کے ترے گلستاں سے گزرے ہیں وہاں نگاہ تلاطم پہنچ نہیں سکتی ستم کشوں کے سفینے جہاں سے گزرے ہیں مسافران حرم ...

مزید پڑھیے

دل کا مقسوم تھا محو غم جاناں ہونا

دل کا مقسوم تھا محو غم جاناں ہونا اسی آئینے سے سیکھے کوئی حیراں ہونا اپنی ہی انجمن شوق میں ہو نغمہ سرا تنگ ہے غیر کی محفل میں غزل خواں ہونا زندگی کیا ہے تری یاد ترا ذکر جمیل بندگی کیا ہے ترے نام پہ قرباں ہونا دل یہ کہتا ہے پشیمان محبت ہو جا درد کہتا ہے نہ منت کش درماں ہونا ان ...

مزید پڑھیے

یہ راز کس سے بتاؤں یہ بات کس سے کہوں

یہ راز کس سے بتاؤں یہ بات کس سے کہوں حدیث شوق کا عنواں ہے ایک حرف جنوں غبار راہ کو منزل کا نام دوں کیسے خزاں کو صبح بہاراں میں کس طرح سمجھوں جب اعتبار نہیں خود نگاہ پر اپنی میں کم نگاہیٔ ساقی کا ذکر کیسے کروں تمام عمر اسی انتظار میں گزری میں ان سے حرف تمنا ابھی کہوں نہ کہوں ادا ...

مزید پڑھیے

صبا گل ریز جاں پرور فضا ہے

صبا گل ریز جاں پرور فضا ہے یہ موسم اور ویراں مے کدہ ہے گرفتار خم و کاکل ہے کوئی غم دوراں میں کوئی مبتلا ہے نہیں ہے بے وفائی کی شکایت تمہاری کم نگاہی کا گلا ہے رہ ہستی سے مرگ ناگہاں تک فقط دو ہی قدم کا فاصلہ ہے یہ دنیا امتحاں گاہ محبت یہ دنیا حاصل کرب و بلا ہے بدل ڈالا نظام جان ...

مزید پڑھیے

دل بے مدعا کا مدعا کیا

دل بے مدعا کا مدعا کیا کسی ساز شکستہ کی صدا کیا لرز جاتا ہوں ذکر آرزو سے یہی ہے آرزوؤں کا صلہ کیا وفا نا آشنا سے کیا شکایت فسوں پرور نگاہوں سے گلہ کیا تموج ہے نہ طغیانی نہ گرداب یہ دریائے محبت کو ہوا کیا گریباں چاک ہیں ہم بھی چمن میں خبر تجھ کو نہیں باد صبا کیا دل مجبور کا ...

مزید پڑھیے

تخلیق کائنات دگر کر سکے تو کر

تخلیق کائنات دگر کر سکے تو کر پیدا خود اپنے شام و سحر کر سکے تو کر پھولوں میں شب گزارنا مشکل نہیں کوئی کانٹوں پہ کوئی رات بسر کر سکے تو کر اچھا نہیں کسی کی تمنا سے کھیلنا اچھا یہی ہے اس سے حذر کر سکے تو کر ہر اشک خوں ہے مخزن سرمایۂ حیات ہر اشک خوں کو لعل و گہر کر سکے تو کر تارے ...

مزید پڑھیے

وہ کبھی شاخ گل تر کی طرح لگتا ہے

وہ کبھی شاخ گل تر کی طرح لگتا ہے اور کبھی دشنہ و خنجر کی طرح لگتا ہے لے کے آیا ہوں میں کچھ خواب ان آنکھوں کے لیے آئنہ بھی جنہیں پتھر کی طرح لگتا ہے حادثے ایسے بھی گزرے کہ تصور جن کا دل کو چھو جائے تو ٹھوکر کی طرح لگتا ہے ہلچلیں دائرۂ جاں میں چھپی رہتی ہیں جس سے ملیے وہ سمندر کی ...

مزید پڑھیے

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے وہ ظالم صرف اپنے ہاتھ کا پتھر بدلتا ہے کئی تبدیلیاں ہوتی ہیں انسانوں کی بستی میں پرندہ کوئی دیکھا ہے جو اپنا گھر بدلتا ہے جو ہم نے اپنی آنکھیں پھینک دی ہیں اس کے قدموں پہ سو اپنی آنکھیں ہر اک گام پر دلبر بدلتا ہے چمک اٹھتے ہیں آنسو میری ...

مزید پڑھیے

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا اسی اک خواب نے ہر موڑ پر مجھ کو رلایا تھا ترے اک قہقہے نے جس کو اک پل میں گرا ڈالا گھروندا وہ تو میں نے اپنے اشکوں سے بنایا تھا خوشی سے اڑتے اڑتے آ گئے اس شاخ پر بھونرے جہاں کانٹوں نے اس کی موت کا ساماں سجایا تھا ستارا یہ زمیں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4640 سے 6203