قومی زبان

جھومر

مجھے بھی آج اک جھومر پہننا ہے امیدوں کا نہ خوابوں اور امنگوں کا کہ میں نے اس کی لڑیوں میں حسیں موتی نہیں ٹانکے کئی آنسو پروئے ہیں مجھے اس جاں فزا جھومر کو ماتھے پہ سجانا ہے زمانے سے چھپانا ہے نیا اک گھر بسانا ہے بس اتنا سا مری یادوں کا بے رونق فسانہ ہے مجھے جھومر پہننا ہے

مزید پڑھیے

چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا

چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا یہ چھیڑ کیا ہے یہ کیا مجھ سے دل لگی ہے کوئی جگایا نیند سے جاگا تو پھر سلا بھی دیا ادھر تھا لطف و کرم ان کا اس طرف تھا عتاب چراغ امید کا روشن کیا بجھا بھی دیا یہ شوخیاں نئی دیکھیں تمہاری چتون میں کہ پردہ رخ پہ ...

مزید پڑھیے

ہے دنیا میں زباں میری اگر بند

ہے دنیا میں زباں میری اگر بند مگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بند جو سب نامہ کیا آتا ہے دیکھیں لکھا نامہ دیا قاصد کو سر بند خدا جانے ہے اس میں مصلحت کیا کھلی ہے راہ لیکن ہے خبر بند رہائی جیتے جی ممکن نہیں ہے قفس ہے آہنی دربند پر بند کہیں بھی اب نہیں میرا ٹھکانا کہ اک اک گھر ہے بند ...

مزید پڑھیے

پتہ نہیں وہ کون تھا

پتہ نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ موگرے کی ڈال پنکھ مور کا تھما کے چل دیا پتہ نہیں وہ کون تھا ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا نظر کو رنگ دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا میں کون ہوں گزرنے والا کون تھا یہ پھول پنکھ کیا ہیں کیوں ملے یہ سوچتے ہی سوچتے تمام رنگ ایک رنگ میں اترتے ...

مزید پڑھیے

نارسا

مجھے خواب اپنا عزیز تھا سو میں نیند سے نہ جگا کبھی مجھے نیند اپنی عزیز ہے کہ میں سر زمین پہ خواب کی کوئی پھول ایسا کھلا سکوں کہ جو مشک بن کے مہک سکے کوئی دیپ ایسا جلا سکوں جو ستارہ بن کے دمک سکے مرا خواب اب بھی ہے نیند میں مری نیند اب بھی ہے منتظر کہ میں وہ کرشمہ دکھا سکوں کہیں ...

مزید پڑھیے

ازل تا ابد

افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم یہ حد نظر تک نم آلود سی ریت کا نرم قالیں کہ جس پر سمندر کی چنچل جواں بیٹیوں نے کسی نقش پا کو بھی نہ چھوڑا فضا اپنے دامن میں بوجھل خموشی سمیٹے ہے لیکن مچلتی ہوئی مست لہروں کے ہونٹوں پہ نغمہ ہے رقصاں یہ نغمہ سنا تھا مجھے یاد آتا نہیں کب مگر ہاں بس احساس ...

مزید پڑھیے

وقت کے کٹہرے میں

سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے اپنے جرم پہ رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو تم نے ہواؤں کے زینے پر پاؤں رکھ کر قوس قزح کے رنگ سمیٹے اور خلاؤں میں اڑتے فرضی تاروں ...

مزید پڑھیے

مجھے کہنا ہے

نہیں میں یوں نہیں کہتا کہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیں نہیں یوں بھی نہیں کہتا کہ ہم جنت کے باسی ہیں سروں پر لاجوردی شامیانے اور پیروں میں نرالے ذائقوں والے پھلوں کے پیڑ شیر و شہد کی نہریں مچلتی ہیں مجھے تو بس یہی کچھ عام سی کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں کہنی ہیں مجھے کہنا ہے اس ...

مزید پڑھیے

قرض

مہر ہونٹوں پہ سماعت پہ بٹھا لیں پہرے اور آنکھوں کو کسی آہنی تابوت میں رکھ دیں کہ ہمیں زندگی کرنے کی قیمت بھی چکانی ہے یہاں

مزید پڑھیے

مجھے جینا نہیں آتا

میں جیسے درد کا موسم گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا لے کے جس منظر تلک جاؤں سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں میں اپنے دل کا سونا پیار کے موتی ترستی آرزو کے پھول جس در پر سجاتا ہوں وہاں جیسے مکیں ہوتا نہیں کوئی بنا ہوں ایک مدت سے صدائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4642 سے 6203