مرے دل گلستاں کو کس لئے آباد کرنا تھا
مرے دل گلستاں کو کس لئے آباد کرنا تھا اگر اس کو مرے حق سے مجھے آزاد کرنا تھا مری سانسیں مرے گھٹ گھٹ کے مر جانے پہ چلتی ہیں اسے شاید مجھے منت کش فریاد کرنا تھا مجھے اک اجنبی نے ڈوبنے سے کیوں بچایا تھا میں اب سمجھا اسے خود ہی مجھے برباد کرنا تھا وہ محبوبہ تو اک شعلہ فشاں ہے پھول ...