قومی زبان

جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے

جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے سب تیری کہانی ہے سب میرا فسانا ہے اک برق سیہ مستی اک شعلۂ مدہوشی مینا سے گرانا ہے ساغر سے اٹھانا ہے تم تک نہ پہنچ جائے لو شمع محبت کی جب طور کو پھونکا تھا اب دل کو جلانا ہے محدود زباں کب تک افسانہ محبت کا آنکھوں سے بھی کہنا ہے دل سے بھی ...

مزید پڑھیے

میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے

میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے وہ گل تر وہ فضائے شبنمستاں ہائے ہائے وہ کسی کی یاد پیہم شام ہجراں ہائے ہائے ہر نفس وقف نوا ہائے پریشاں ہائے ہائے دل پہ درد عشق کا ایک ایک احساں ہائے ہائے جان کی صورت میں کوئی دشمن جاں ہائے ہائے صبح ہجراں بد تر از شبہائے ہجراں ہائے ...

مزید پڑھیے

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا وہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتا قدم قدم پہ تری راہ میں فلک حائل مجھے تلاش سے بھی آسماں نہیں ملتا انہیں طریقۂ لطف و کرم نہیں معلوم ہمیں سلیقۂ آہ و فغاں نہیں ملتا عروس دہر کو غازہ بھی چاہئے لیکن غبار جادۂ امن و اماں نہیں ملتا دھڑک رہا ہے ہر ...

مزید پڑھیے

سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے

سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے بیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئے اک اک نظر فریبیٔ ساحل لئے ہوئے ہر موج سامنے ہے مرا دل لئے ہوئے سرمایۂ نشاط غم دل لئے ہوئے ہوں یعنی کیف عشق کا حاصل لئے ہوئے پھر کشتیٔ حیات ہے گرداب غم کے ساتھ طوفان بے نیازیٔ ساحل لئے ہوئے جی چاہتا ہے تھک کے ...

مزید پڑھیے

عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا

عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا ہم بھی انہیں کے ہیں تو پھر اپنا بھی اعتبار کیا عشرت زیست کی قسم عشرت مستعار کیا غم بھی جو مستقل نہ ہو غم کا بھی اعتبار کیا مٹتی ہوئی حیات کیا لٹتی ہوئی بہار کیا یعنی قریب صبح غم شمع کا اعتبار کیا یاد سے ان کی کام رکھ درد کا اہتمام رکھ موت بھی آ ...

مزید پڑھیے

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے دشمنوں کا دل بڑھانا چھوڑ دے تم ہی دنیا بھی مری ہو دین بھی کیا ہے گر سارا زمانہ چھوڑ دے حال دل کہنا جو چاہا یہ کہا بے سر و پا یہ فسانہ چھوڑ دے بزم دشمن میں وہ جا کر لٹ گئے رہزن اور ایسا خزانہ چھوڑ دے شرم کر اے دل تغافل اس کا دیکھ اب بھی حال دل سنانا ...

مزید پڑھیے

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر زندگی ہم بسر کریں کیوں کر تو جفا پر بھی تو نہیں قائم ہم وفا عمر بھر کریں کیوں کر چل گئے ہیں رقیب کے فقرے میری باتیں اثر کریں کیوں کر پاؤں رکھتا ہے غیر بھی اس پر سجدۂ سنگ ر کریں کیوں کر چشم ساقی کے ہم ہیں متوالے جام مے پر نظر کریں کیوں کر ہے نزاکت کا ...

مزید پڑھیے

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے سوکھ بھی جائے اگر پھول تو بو ساتھ رہے کانپتے ہاتھوں سے دامان تقدس نہ چھٹے میکدے جاؤں تو اک ظرف وضو ساتھ رہے اے خیال رخ جاناں مری جاں تجھ پہ نثار دونوں عالم مجھے حاصل ہیں جو تو ساتھ رہے ہم گدائے در مے خانہ کو ہے کام سے کام جام و ساغر نہ سہی ...

مزید پڑھیے

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے چنے گئے ہیں ہمیں یاس جاوداں کے لئے قسم خدا کی نہیں شوق زندگی ہم کو ہمیں یہ چاہئے اس حسن جاں ستاں کے لئے اضافہ اور غم جاں ستاں میں ہوتا ہے اثر بنا ہی نہیں ہے مری فغاں کے لئے خبر نہیں مرا تنکوں کا ایک جا کرنا ہے بجلیوں کے لئے یا کہ آشیاں کے ...

مزید پڑھیے

بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے سر پھرے حالات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے جو مرے دشمن کو سمجھا کر گئی کم ظرف ہے یعنی کس کس بات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے آج بیرون قفس صیاد کی پروا نہیں آپ اپنی ذات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے جشن کر میری تباہی پر کوئی شکوہ نہیں بس تری اوقات سے تکلیف ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4621 سے 6203