جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے
جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے سب تیری کہانی ہے سب میرا فسانا ہے اک برق سیہ مستی اک شعلۂ مدہوشی مینا سے گرانا ہے ساغر سے اٹھانا ہے تم تک نہ پہنچ جائے لو شمع محبت کی جب طور کو پھونکا تھا اب دل کو جلانا ہے محدود زباں کب تک افسانہ محبت کا آنکھوں سے بھی کہنا ہے دل سے بھی ...