قومی زبان

محفل خوشیاں شور شرابہ ایک طرف

محفل خوشیاں شور شرابہ ایک طرف لیکن آنکھوں کا سناٹا ایک طرف اس کا بس محفل میں یوں ہی آ جانا پھر ساری نظروں کا ہونا ایک طرف روز رقیبوں کا دعوت پر اٹھلانا اور ان دو آنکھوں کا فاقہ ایک طرف ایک طرف ہے دنیا کی ہر میٹھی شے پر اس کا ہنس کے شرمانا ایک طرف گھر تو سارا بے ترتیب پڑا تھا ...

مزید پڑھیے

منظور کر لے فیصلہ پروردگار کا

منظور کر لے فیصلہ پروردگار کا جب مسئلہ نہیں ہے تیرے اختیار کا قسمت کی ہے یہ بات کہ بنتا ہے کس سے کیا سب دیکھتے ہیں خواب کسی شاہکار کا بستی میں چیخ چیخ کے چپ ہو گیا تھا سچ کرتا یقین کون کسی بے دیار کا سمجھا لیا ہے خود کو کسی طور ہاں مگر ہوتا نہیں ہے کچھ بھی دل بے قرار کا گزرے گی ...

مزید پڑھیے

اک نہ اک دن تو سبھی کو ہی قضا آئے گی

اک نہ اک دن تو سبھی کو ہی قضا آئے گی آخری وقت میں بس کام دعا آئے گی ہاتھ گر مجھ سے چھڑانا بھی کبھی چاہے تم دیکھنا بیچ میں یہ میری وفا آئے گی عیب تو ڈھونڈ نہ پائے گا میری چاہت میں ہاتھ تیرے کوئی چھوٹی سی خطا آئے گی عشق کا روگ اگر لگ ہی گیا ہے اس کو پھر کہاں اس کے کسی کام دوا آئے ...

مزید پڑھیے

دھوپ ہو کہ چھا جائے پھر گھٹا جو تم کہہ دو

دھوپ ہو کہ چھا جائے پھر گھٹا جو تم کہہ دو خواہشیں ہماری اب اور کیا جو تم کہہ دو کچھ اداس غزلوں کے حرف میں بدل ڈالوں آؤ ختم کر لیں یہ فاصلہ جو تم کہہ دو تم فقط ہمارے ہو کہہ دیا رقیبوں سے سب یقین کر لیں گے اک ذرا جو تم کہہ دو علم ہے کہاں سب کو کیا بھلا برا کیا ہے وہ بھلا جو تم کہہ دو ...

مزید پڑھیے

اب تو آسان دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی

اب تو آسان دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی اس کی جانب سے سنائی نہیں دیتا کچھ بھی اس قدر آنکھوں پہ قابض ہے وہ جانا اس کا اس طرف آتا دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی آسمانوں کا بلانا نہ قفس کا کھلنا کیوں پرندے کو رہائی نہیں دیتا کچھ بھی فرق کوئی نہیں خلوت میں کہ محفل میں رہوں درد سے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

اک بات یہی شکر منانے کے لئے ہے

اک بات یہی شکر منانے کے لئے ہے اب پاس نہیں کچھ بھی گنوانے کے لئے ہے اس کو یہ سہولت ہے کہ جب چاہے وہ روٹھے وہ جانتا ہے کوئی منانے کے لئے ہے یہ باد صبا خوشبو پرندوں کی صدائیں ہر شے اسے کھڑکی پہ بلانے کے لئے ہے کچھ پیڑ ہرے رہتے ہیں پت جھڑ ہو کہ ساون چہرے پہ تبسم یہ بتانے کے لئے ...

مزید پڑھیے

ذرا دیکھیے تو غضب ڈھا رہے ہیں

ذرا دیکھیے تو غضب ڈھا رہے ہیں غزل کے بہانے سنا کیا رہے ہیں کتابوں میں جو پھول مرجھا گئے تھے بغاوت کے پرچم نظر آ رہے ہیں کبھی زندگی کا اجالا ہمیں تھے ہمیں آنکھ میں اب چبھے جا رہے ہیں کریں کیسے چارہ گروں پہ بھروسا مرض کون سا ہے بتا کیا رہے ہیں سفینہ ہمارا خدا کے حوالے ہمیں کیا ...

مزید پڑھیے

اپنے وعدوں کو فراموش نہ کر دینا تھا

اپنے وعدوں کو فراموش نہ کر دینا تھا ساز الطاف کو خاموش نہ کر دینا تھا اپنی نظروں سے اگر مجھ کو کیا تھا اوجھل اپنے دل سے تو فراموش نہ کر دینا تھا نہیں آتا تھا اگر ہوش میں لانا تم کو کسی کمبخت کو بے ہوش نہ کر دینا تھا ہر نفس موت کے قدموں کی صدا سننے کو زندگی کو ہمہ تن گوش نہ کر دینا ...

مزید پڑھیے

ساقی کے نام لیوا میخانے رہ گئے ہیں

ساقی کے نام لیوا میخانے رہ گئے ہیں مے خانوں میں بھی خالی پیمانے رہ گئے ہیں بے مقصد جنوں ہیں مجنوں جو دشت میں ہیں لیلیٰ نہیں رہی ہے دیوانے رہ گئے ہیں بن کر جو اک حقیقت دنیا پہ چھا گئے تھے دنیا میں آج ان کے افسانے رہ گئے ہیں محفل رہے تمہاری محفل میں تم رہو اب وہ کیا رہیں جو ہو کر ...

مزید پڑھیے

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے بقدر ہمت رہرو کشش منزل میں ہوتی ہے محبت دل میں ہوتی ہے تمنا دل میں ہوتی ہے جوانی عمر کی کتنی حسیں منزل میں ہوتی ہے محبت اے معاذ اللہ محبت دم نکل جائے اگر محسوس بھی اتنی ہو جتنی دل میں ہوتی ہے ٹھہرنے بھی نہیں دیتی ہے اس محفل میں بیتابی مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4603 سے 6203