قومی زبان

کسی کے صبح کی مسکان ہونا

کسی کے صبح کی مسکان ہونا اندھیرے گھر میں روشندان ہونا کہوں میں کیا تمہیں اس سے زیادہ مرے بچو مری پہچان ہونا سفر آسان میرا کر گیا ہے تمہارا ساتھ اس دوران ہونا حوادث بھی سکھا جاتے ہیں اکثر برا ہوتا نہیں نقصان ہونا بڑی مشکل سے ہاتھ آتا ہے یہ فن کہاں آسان ہے آسان ہونا ہماری ...

مزید پڑھیے

وہ اگر بے وفا نہیں ہوتا

وہ اگر بے وفا نہیں ہوتا پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا قرض ہم پر ضرور تھا کوئی ورنہ یہ سلسلہ نہیں ہوتا جو محبت اسے بھی ہوتی تو اس قدر فاصلہ نہیں ہوتا ہے ہدایت ہماری ہی خود کو دل سے اب مشورہ نہیں ہوتا زندگی لے چلے جدھر چاہے ہم سے اب فیصلہ نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

آرزوئیں نذر دوراں نذر جاناں ہو گئیں

آرزوئیں نذر دوراں نذر جاناں ہو گئیں کیا بہاریں تھیں جو دو پھولوں پہ قرباں ہو گئیں غم کی شیریں تلخیاں جینے کا ساماں ہو گئیں بجلیاں خون رگ جان گلستاں ہو گئیں روح غم روح طرب روح اجل روح حیات جب یہ باہم مل گئیں تقدیر انساں ہو گئیں یاد ہے ان کی کہ اک موج جمال و رنگ و بو شمعیں کلیوں ...

مزید پڑھیے

دنیا میں وفا کیش بشر ڈھونڈھ رہا ہوں

دنیا میں وفا کیش بشر ڈھونڈھ رہا ہوں میں نخل صنوبر میں ثمر ڈھونڈھ رہا ہوں میں اپنی دعاؤں میں اثر ڈھونڈھ رہا ہوں تاریک فضاؤں میں قمر ڈھونڈھ رہا ہوں میں اور تماشائے گل و رنگ پہ مائل کھویا ہوا اک ذوق نظر ڈھونڈھ رہا ہوں وہ صبح قیامت میں ہوئے جاتے ہیں پنہاں میں شام مصیبت کی سحر ...

مزید پڑھیے

خیال کو ضو نظر کو تابش نفس کو رخشندگی ملے گی

خیال کو ضو نظر کو تابش نفس کو رخشندگی ملے گی بھڑک اٹھا سوز غم جو دل میں تو ہر کہیں روشنی ملے گی خلش کی تہہ میں سکوں ملے گا الم کی تہہ میں خوشی ملے گی بغور دیکھو تو موت میں بھی تمہیں نئی زندگی ملے گی مقام انساں مقام یزداں میں فاصلہ ہے بس اک قدم کا جہاں ملے گی خودی کی سرحد وہیں حد بے ...

مزید پڑھیے

محبت نغمہ بھی ہے ساز بھی ہے

محبت نغمہ بھی ہے ساز بھی ہے شکست ساز کی آواز بھی ہے ہے نیت ہی میں دوزخ اور جنت یہی دم سوز بھی دم ساز بھی ہے نہ توڑیں میرا ساز دل نہ توڑیں کہ اس میں آپ کی آواز بھی ہے محبت یوں تو ہے اک لفظ سادہ جو سمجھو تو فسانہ ساز بھی ہے قفس پرواز دشمن تو ہے لیکن قفس اک دعوت پرواز بھی ہے یہی گل ...

مزید پڑھیے

رام

کوئی مست بادہ و جام ہے کوئی محو رقص و خرام ہے کوئی صرف شعر و کلام ہے کوئی محو تیغ و نیام ہے مجھے دو نہ رنگ کی دعوتیں مرے دل کی آنکھ میں رام ہے مجھے کوئی روگ ستائے کیوں مجھے کوئی رنج رلائے کیوں مرے دل کو آگ جلائے کیوں مری خاک چرخ اڑائے کیوں مجھے خوف گرد الم نہیں مرے دل کی آنکھ میں رام ...

مزید پڑھیے

یوم برق

تری روشن دماغی پر ہیں نازاں آسماں والے تری نازک خیالی پر ہیں حیراں گلستاں والے تری عظمت کے قائل دل سے ہیں سارے جہاں والے سخن دانوں کی محفل میں تو شمع حسن محفل ہے ستاروں میں ضیا افروز مثل ماہ کامل ہے سمجھتے ہیں تجھے سالار اپنا کارواں والے کہیں الفاظ میں حسن حقیقی کی ہیں ...

مزید پڑھیے

ہولی

ہر ایک پھول ہوا رنگ بار ہولی میں ہر ایک شاخ ہے صورت نگار ہولی میں گلوں سے موج شفق رنگ کھیلنے آئی عجب ہے ارض و سما پر بہار ہولی میں وہ سرخ پوش گلستاں میں رنگ کھیلا ہے گل و سمن پہ ہے طرفہ نکھار ہولی میں ہر ایک چیز سے رنگ وفا ٹپکتا ہے شہید عشق کی ہے یادگار ہولی میں کچھ اس طرح سے ہوئی گل ...

مزید پڑھیے

کسی کے عشق میں دل بے قرار کون کرے

کسی کے عشق میں دل بے قرار کون کرے وہی گناہ بتا بار بار کون کرے اگر سفر میں سکوں ہے کسی مسافر کو کہیں ٹھہر کے سکوں تار تار کون کرے فریبیوں میں پریشاں ہے سب کے سب رشتے یہاں وفاؤں پہ اب اعتبار کون کرے محبتیں تو یہاں چند روز ہوتی ہیں تمام عمر کا آخر قرار کون کریں گلے لگا کے کریں ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4602 سے 6203