کھوٹا تو کیا وہ نقد کھرا ہے کہ ہائے ہائے
کھوٹا تو کیا وہ نقد کھرا ہے کہ ہائے ہائے وہ نا سرہ بھی آج سرا ہے کہ ہائے ہائے کن مرحلوں میں قافلہ گم ہو کے رہ گیا کس سمت سے صدائے درا ہے کہ ہائے ہائے کیا لوگ ہیں یہ لوگ جہاں کیا جہاں ہے یہ کیا کارواں ہے کیا یہ سرا ہے کہ ہائے ہائے اڑتا ہے اس ہوا سے بقدر نفس جو ہے تصویر میں وہ رنگ ...