قومی زبان

کھوٹا تو کیا وہ نقد کھرا ہے کہ ہائے ہائے

کھوٹا تو کیا وہ نقد کھرا ہے کہ ہائے ہائے وہ نا سرہ بھی آج سرا ہے کہ ہائے ہائے کن مرحلوں میں قافلہ گم ہو کے رہ گیا کس سمت سے صدائے درا ہے کہ ہائے ہائے کیا لوگ ہیں یہ لوگ جہاں کیا جہاں ہے یہ کیا کارواں ہے کیا یہ سرا ہے کہ ہائے ہائے اڑتا ہے اس ہوا سے بقدر نفس جو ہے تصویر میں وہ رنگ ...

مزید پڑھیے

معنی و مفہوم کیا ہوں عشق کے مضمون میں

معنی و مفہوم کیا ہوں عشق کے مضمون میں جس طرح کوئی خیال آئے دل مجنون میں عشق سے ہوتی ہے اس شدت کی گرمی خون میں کھولتا ہے جیسے دریا دوپہر کو جون میں جسم میں رگ رگ پھڑک اٹھتی ہے سوز عشق سے گرم طغیاں جس طرح امواج ہوں جیجون میں حسن سے واضح ہوئی ہے معنویت عشق کی شامل مفہوم ہے عنوان ...

مزید پڑھیے

عشق کی اللہ ری دشواریاں

عشق کی اللہ ری دشواریاں اک جنوں اور لاکھ ذمہ داریاں اہتمام زندگی عشق دیکھ روز مر جانے کی ہیں تیاریاں عشق کا غم وہ بھی تیرے عشق کا کون کر سکتا مری غم خواریاں بے خودی عشق جیسے غم کی نیند غم کی نیندیں روح کی بیداریاں اک جنون عشق پر قربان ہیں حکمت و عرفاں کی سو ہشیاریاں عشق بھی ...

مزید پڑھیے

یہ عمر مصیبت کی بسر ہو کے رہے گی

یہ عمر مصیبت کی بسر ہو کے رہے گی جب شام ہوئی ہے تو سحر ہو کے رہے گی افسردگی دل گل تر ہو کے رہے گی آہ سحری باد سحر ہو کے رہے گی خود ان کے تغافل کی عنایت سے کسی دن ان کو مری حالت کی خبر ہو کے رہے گی وہ برق تجلی جو ابھی کعبۂ دل ہے اک روز وہ مسجود نظر ہو کے رہے گی یا قابل سجدہ ہی رہے گا ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن بھی ہے ممکن مجھے معلوم نہ تھا

غیر ممکن بھی ہے ممکن مجھے معلوم نہ تھا ایک دن آئے گا یہ دن مجھے معلوم نہ تھا اور کچھ میں ترے ظاہر سے سمجھتا تھا تجھے اور کچھ ہے ترا باطن مجھے معلوم نہ تھا اپنے دامان تصنع میں چھپا سکتے ہیں ان معائب کو محاسن مجھے معلوم نہ تھا دشمنی کے لئے مخصوص ہے جو طرز عمل دوستی میں ہے وہ ممکن ...

مزید پڑھیے

جب کبھی دیر و حرم ٹکرائے مے خانوں کے ساتھ

جب کبھی دیر و حرم ٹکرائے مے خانوں کے ساتھ صرف گردش کر دیا ساقی نے پیمانوں کے ساتھ حسن بھی کمبخت کب خالی ہے سوز عشق سے شمع بھی تو رات بھر جلتی ہے پروانوں کے ساتھ روز مے خواروں کی قسمت کے ستارے شام سے جگمگا اٹھتے ہیں جاگ اٹھتے ہیں مے خانوں کے ساتھ گردش گردوں خلل انداز مے خانہ ہو ...

مزید پڑھیے

شب غم عیش کا مژدہ سنانے کون آتا ہے

شب غم عیش کا مژدہ سنانے کون آتا ہے یہ میرے آنسوؤں میں مسکرانے کون آتا ہے ٹھہر سکتا نہیں سینے میں جب دل مضطرب ہو کر سکوں بن کر مرے پہلو میں جانے کون آتا ہے کچل دیتی ہے جب احساس کو سنجیدگی غم کی شرارت سے مرا دل گدگدانے کون آتا ہے بھیانک تیرگی میں غم کی جب دم گھٹنے لگتا ہے چراغ ...

مزید پڑھیے

اس طرح دنیا میں دل کو محرم غم کیجیے

اس طرح دنیا میں دل کو محرم غم کیجیے جب خوشی کوئی میسر ہو تو ماتم کیجیے عشق سے پھر سلسلہ جنبانی غم کیجیے زندگی پر موت کو پہلے مقدم کیجیے حسن کی جانب نگاہ شوق یا کم کیجیے یا نگاہ شوق کو اک عہد محکم کیجیے موت کا کیا موت کا تو سو طرح غم کیجیے زندگی ناشاد کا کس طرح ماتم کیجیے دیکھ ...

مزید پڑھیے

جانے کیا کچھ سن کر لوٹا

جانے کیا کچھ سن کر لوٹا چپ ہے وہ جب سے گھر لوٹا بچپن کا ہر ننھا سپنا تھک کر بوڑھا ہو کر لوٹا وہ بھی آگ بجھانے نکلا وہ بھی ہاتھ جلا کر لوٹا جانے کیا ساحل سے کہہ کر الٹے پاؤں سمندر لوٹا

مزید پڑھیے

آپ اپنے رقیب ہیں ہم لوگ

آپ اپنے رقیب ہیں ہم لوگ کس قدر بد نصیب ہیں ہم لوگ دولت درد سے ہیں مالا مال گو بظاہر غریب ہیں ہم لوگ ہم کو ہر حال میں اجڑنا ہے عاشقوں کا نصیب ہیں ہم لوگ جتنے اپنی خودی سے دور ہوئے اتنے ان سے قریب ہیں ہم لوگ پھر نہ سنورے بگڑ کے ہم شاید دشمنوں کا نصیب کا نصیب ہیں ہم لوگ موت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4604 سے 6203