قومی زبان

کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو

کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو یہ کہانی مری زباں سے سنو غم ہی غم ہے مرے فسانے میں دکھ ہی دکھ ہے اسے جہاں سے سنو مجھ سے پوچھو تم اپنے جی کا حال راز کی بات راز داں سے سنو غم مرے دل میں تم ہو پردے میں سچ تو ہے تم اسے کہاں سے سنو چھپ گیا ہے فسانۂ بیخودؔ کبھی تم بھی تو قصہ خواں سے سنو

مزید پڑھیے

ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں

ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں یہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاں اک بوند ہے لہو کی مگر بے قرار ہے دل کو چھپائے زلف شکن در شکن کہاں تمکین خامشی نے انہیں بت بنا دیا سب اس گمان میں ہیں کہ ان کے دہن کہاں وہ شام وعدہ محو ہیں آرائشوں میں اور پہونچا ہے لے کے مجھ کو مرا سوء ظن کہاں بیخودؔ ...

مزید پڑھیے

شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا

شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا ہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلا کہئے تو کس کے پھنسانے کی یہ تدبیریں ہیں آج کیوں چیں بہ جبیں سے خم گیسو بدلا اک ترا ربط کہ دو دن کبھی یکساں نہ رہا اک مرا حال کہ ہرگز نہ سر مو بدلا ان حسینوں ہی کو زیبا ہے تلون اے دل ہاں خبردار جو بھولے سے کبھی تو ...

مزید پڑھیے

جھنکار کا رشتہ تو ہے زنجیر سے سائیں

جھنکار کا رشتہ تو ہے زنجیر سے سائیں کیوں لوگ پریشاں ہوئے تعبیر سے سائیں کچھ لوگ ابھی شہر میں ایسے بھی ہیں خوش پوش جو آگ لگا دیتے ہیں تقریر سے سائیں حق بولنے کا حوصلہ اب ہم میں نہیں ہے نسبت تو نکلتی رہی شبیر سے سائیں تدبیر پہ موقوف ہے دنیا کی حکومت ہم لوگ الجھتے رہے تقدیر سے ...

مزید پڑھیے

خموشی میں بھی گویائی بہت ہے

خموشی میں بھی گویائی بہت ہے سمجھنا ہو تو تنہائی بہت ہے مرا سرمایہ یادوں کی حویلی مری خاطر یہ انگنائی بہت ہے ڈبونا ہے تو لے چل دور مجھ کو کنارے پر تو رسوائی بہت ہے مری گمنامیاں مشہور ہوں گی تمہارا شہر بلوائی بہت ہے یہ دنیا ہے اسے پہچان بسملؔ ازل ہی سے یہ ہرجائی بہت ہے

مزید پڑھیے

جب وہ کہتا ہے سمندر ہے کنایہ اس کا

جب وہ کہتا ہے سمندر ہے کنایہ اس کا رنگ یک لخت بدلتا ہے سراپا اس کا کب پکارے گا بھلا نام بھنور سے میرا کب بھلا آئے گا پھر موج میں دریا اس کا دل تو تہذیب انا کا ہے پرستار مگر کیا کرے کوئی جو ہو جائے اشارہ اس کا کب سنوارے گا وہ تقدیر مرے لفظوں کی کب نظر آئے گا اشعار میں چہرہ اس ...

مزید پڑھیے

ترے دیار تلک یوں تو آ ہی جاتے ہیں

ترے دیار تلک یوں تو آ ہی جاتے ہیں یہ اور بات تصور میں جی جلاتے ہیں مری اداس نظر کا خیال ہے ورنہ اسے تو چاند ستارے بہت بلاتے ہیں تمام عمر بھٹکتے رہے جو صحرا میں انہیں یہ وہم کہ وہ راستہ دکھاتے ہیں ستم کی بھیک سہی دوستوں کا تحفہ ہے بڑی خوشی سے یہ احسان ہم اٹھاتے ہیں ہماری نظروں ...

مزید پڑھیے

موسموں کی طرح بدلا میں کہ تو

موسموں کی طرح بدلا میں کہ تو کون کس کو بھول بیٹھا میں کہ تو سامنے دریا مگر پابندیاں ایک اک قطرے کو ترسا میں کہ تو پاکئی داماں کے افسانے نہ کہہ کون ہے ہر سمت رسوا میں کہ تو جستجو کس کو نئی دنیا کی تھی دشت میں شعلوں کے بھٹکا میں کہ تو زندگی کے سخت و سنگیں موڑ پر کون تھا کس کا ...

مزید پڑھیے

اس کی قربت کا تماشا بھی عجب ہے سائیں

اس کی قربت کا تماشا بھی عجب ہے سائیں لوگ بیمار سمجھتے ہیں غضب ہے سائیں اب طبیعت کے نہ لگنے پہ کھلا محفل میں اک وہی شوخ نہیں ویسے تو سب ہے سائیں ہائے کمبخت نے اس درجہ کیا ہے مایوس میں سمجھتا تھا کہ اظہار بہ لب ہے سائیں میں بھی کچھ اپنے ہنر کا تو دکھاؤں جلوہ جشن نو روز بتا شہر میں ...

مزید پڑھیے

مجھے بھی جینے کا احساس اب ذرا ہو جائے

مجھے بھی جینے کا احساس اب ذرا ہو جائے کبھی نکال لو فرصت تو رتجگا ہو جائے نہ آرزو نہ خلش کچھ نہیں کسی دل میں نگاہ بھر کے جسے دیکھ لو ترا ہو جائے رہے جو دور تو کیا کیا شرارتیں اس کی کبھی قریب سے گزرے تو دوسرا ہو جائے مرا نہ ہو نہ سہی میرے روبرو تو رہے وجود میرا کسی طور آئنہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4565 سے 6203