قومی زبان

ماں

اب بھی جب گردش ایام سے گھبراتا ہوں بھاگا بھاگا ترے کمرے میں چلا آتا ہوں سر جھکا کر تری تصویر کے آگے چپ چاپ پہروں بیٹھا ہوا بچے کی طرح جانے کیا سوچتا رہتا ہوں پھر ایسا گماں ہوتا ہے ہاتھ شفقت سے کسی نے مرے سر پر رکھا دیکھتا ہوں تو خوشی چہرے پہ چھا جاتی ہے ماں مرے واسطے جنت سے چلی آتی ...

مزید پڑھیے

جستجو

وہ ماہتاب اتر آئے چھت پہ کوئی شام ملے مجھے بھی محبت بھرا کوئی پیغام ہزار بار امنگوں نے مجھ کو بہکایا ہزار بار خیالوں نے مجھ کو اکسایا ہزار بار طبیعت تری طرف آئی ہزار بار اکیلے میں دل کو سمجھایا مگر یہ سچ ہے کہ ہر بار ہو گیا ناکام ملے مجھے بھی محبت بھرا کوئی پیغام ہزار بار مرے دل ...

مزید پڑھیے

تاج محل

آگرہ شہر میں محبت کا ایک مینار جگمگاتا ہے لوگ کہتے ہیں جس کو تاج محل میرے دل کو بہت لبھاتا ہے روشنی پھوٹتی ہے جالی سے باغ میں پھول مسکراتے ہیں لوگ پہلو میں بیٹھ کر اس کے ہائے کتنا سکون پاتے ہیں روح جس میں نہیں پہ ہے زندہ تم نہ مانو مگر حقیقت ہے وقت دھندلا نہ کر سکا جس کو یہ محبت ...

مزید پڑھیے

آج مقتل میں خبر ہے کہ چراغاں ہوگا

آج مقتل میں خبر ہے کہ چراغاں ہوگا گر یہ سچ ہے تو مرے قتل کا ساماں ہوگا آج کھلیں گے مرے خون سے ہولی سب لوگ کتنا رنگین ہر اک شخص کا داماں ہوگا آج وہ پھول چڑھائیں گے مری تربت پر رشک گل زار جناں مرقد ویراں ہوگا آج مائل بہ تجلی ہے جو لیلائے حریم قیس بے چارہ کہیں صرف بیاباں ہوگا آج گر ...

مزید پڑھیے

یہی اک مشغلہ شام و سحر ہے

یہی اک مشغلہ شام و سحر ہے تصور ہے ترا اور چشم تر ہے اسے ذکر بہار و باغ سے کیا قفس کو جو سمجھتا ہو کہ گھر ہے شب فرقت ہے اپنی کیسی پنہاں کہ جس کی شام محروم سحر ہے

مزید پڑھیے

آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے

آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے ہشیار اے خیال پریشاں لیے ہوئے اس سے نہ اضطراب محبت کو پوچھیے جو جی رہا ہو درد کا احساں لئے ہوئے بے چین کروٹوں سے یہ ظاہر ہے صاف صاف پنہاں ہی دل میں ہے غم پنہاں لیے ہوئے

مزید پڑھیے

قاصد تو خط کو لایا ہے کیوں کر کھلا ہوا

قاصد تو خط کو لایا ہے کیوں کر کھلا ہوا خط ہے کہ ہے یہ میرا مقدر کھلا ہوا پڑتے ہی اک نظر ہوا زخمی دل و جگر قاتل تری نظر ہے کہ خنجر کھلا ہوا قاصد سے کیا کہوں میں لکھوں خط میں ان کو کیا پنہاں کے دل کا حال ہے ان پر کھلا ہوا

مزید پڑھیے

نہ ملا ترا پتہ تو مجھے لوگ کیا کہیں گے

نہ ملا ترا پتہ تو مجھے لوگ کیا کہیں گے یوں ہی در بدر رہا تو مجھے لوگ کیا کہیں گے تجھے زندگی کہا ہے تو ہے زندگی کا حاصل تجھے بے وفا کہا تو مجھے لوگ کیا کہیں گے مرے دل میں ضبط غم کا جو چراغ جل رہا ہے وہ چراغ بجھ گیا تو مجھے لوگ کیا کہیں گے یہ جہاں نہ جانے کیا کیا مجھے کہہ رہا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4564 سے 6203