کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا
کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا نہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتا سر نیاز جھکانے کی خو تو پیدا کر جبین شوق لگا لے گی آستاں کا پتا ستم دبا نہ سکا آپ کے شہیدوں کو جفا مٹا نہ سکی خون بے کساں کا پتا رگ بریدہ پکارے گی نام قاتل کا کفن بتائے گا اس تیغ خوں چکاں کا پتا اسی قدر ...