قومی زبان

دل کی زباں سے اس کو صدا دینا چاہیے

دل کی زباں سے اس کو صدا دینا چاہیے بیٹھے گلا تو ایسے بلا لینا چاہیے نظریں چرا بچا کے اٹھا لینا چاہیے اوروں کے درد کا بھی مزا لینا چاہیے بستر پہ آسمان کے ٹھٹھرے ہے چندر ما بادل ادھر ادھر سے دبا لینا چاہیے کاندھے سمے کے بوجھ سے شل ہو گئے تو کیا یہ بوجھ مسکرا کے اٹھا لینا ...

مزید پڑھیے

دکھتی ہے روح پاؤں کو لاچار دیکھ کر

دکھتی ہے روح پاؤں کو لاچار دیکھ کر رک جائیں گے کہیں کوئی دیوار دیکھ کر سبکی نہ ہو کہیں طرف یار دیکھ کر آنکھیں اٹھائیے بھی تو دستار دیکھ کر نکلو جو بن سنور کے تو بازار دیکھ کر مانگیں ہیں مول شکل خریدار دیکھ کر کہنا تو بس یہی ہے کہ چاہیں ہیں ہم تجھے گھبرائیو نہ بات کا بستار دیکھ ...

مزید پڑھیے

مرے بدن کی تپش روح تک اتارے گا

مرے بدن کی تپش روح تک اتارے گا وہ آئنے میں کبھی میرا روپ دھارے گا شعور غم اسے دہرائے گا ہزاروں بار یہ ایک رات کئی سال تک گزارے گا کبھی تو آئے گی باد سموم اس جانب کبھی تو وقت مجھے شاخ سے اتارے گا یوں ننگے سر نہ چلو کوچۂ تصور میں خیال لفظ کا پتھر اٹھا کے مارے گا اے اہل شہر اٹھاؤ ...

مزید پڑھیے

یوں نہ جان اشک ہمیں جو گیا بانا نہ ملا

یوں نہ جان اشک ہمیں جو گیا بانا نہ ملا دور لے جائے جو مجھ سے کوئی ایسا نہ ملا خالی ہاتھ اب کے گزرنے نہ دی پیڑوں نے بسنت پت جھڑ آئی تو کسی شاخ پہ پتا نہ ملا اپنا سایہ ہی ڈراتا ہو تو کس سے کہیے کہیے کس منہ سے کہ کس کو کوئی اپنا نہ ملا آئنہ دیکھنے ٹھہرے تو نظر کانپ گئی اور جو عکس ہمیں ...

مزید پڑھیے

جس کی ہر بات میں قہقہہ جذب تھا میں نہ تھا دوستو

جس کی ہر بات میں قہقہہ جذب تھا میں نہ تھا دوستو وہ جو ہنستا ہنساتا تھا اس شہر میں ہو لیا دوستو ایک ایک کر کے اہل علم چل دیے شہر ویران ہے ایک لے دے کے میں بچ رہا ہوں سو مجھ میں ہے کیا دوستو ایک دو پھول تھے سکھ کے ٹہنی پہ سو وہ بھی مرجھا گئے ورنہ اس پیڑ پہ ہر سمے ہر طرف رنگ تھا ...

مزید پڑھیے

دھول آنکھوں میں پڑی ہو جیسے

دھول آنکھوں میں پڑی ہو جیسے ہر کوئی اور کوئی ہو جیسے سائے کے ساتھ لگے رہتے ہیں یہ بھی اپنا ہی کوئی ہو جیسے پاؤں پھیلائے پڑی ہے امید مدتوں پو نہ پھٹی ہو جیسے اپنی ہر بات پہ ہوتا ہے گماں ہم نے پہلے بھی کہی ہو جیسے ہنسنے لگتے ہیں تو دھمکاتی ہے زندگی ہم سے بڑی ہو جیسے درد کو اجنبی ...

مزید پڑھیے

حصار درد سا میں سعیٔ رائیگاں سا میں

حصار درد سا میں سعیٔ رائیگاں سا میں یہ شعلہ شعلہ فضا اور دھواں دھواں سا میں پہیلیاں سی مرے ارد گرد بکھری ہوئیں حضور وقت کوئی لمحۂ گراں سا میں قدم قدم نئے عنوان منہ اٹھائے ہوئے کسی روایت کہنہ کی داستاں سا میں کسی گزرتے ہوئے سانحے کا لمحہ تو اور ایک لمحے کی خاطر رواں دواں سا ...

مزید پڑھیے

بپھرائی بپھرائی موجیں کوسوں دور کنارا سا

بپھرائی بپھرائی موجیں کوسوں دور کنارا سا اوپر بادل نیچے جل تھل آنکھ تلے اندھیارا سا پت جھڑ کی کالی راتوں میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ماضی کی امرائی سے دو لوگوں کا لشکارا سا پکتے گڑ کی خوشبو پھیل گئی بھونرالی راتوں میں گاؤں کا رستہ ٹھمک ٹھمک کر من کو کرے اشارا سا اس کو کیا ...

مزید پڑھیے

مجھے معصومیت سے دیکھتا ہے

مجھے معصومیت سے دیکھتا ہے وہ دھوکا کھائے ہے یا دے رہا ہے میں کتنا اجنبی ہوں اپنی خاطر مجھے ہر آدمی پہچانتا ہے عجب ہے تیری یک رنگی کہ پیارے جہاں تک دیکھتا ہوں آئنہ ہے ہماری بھوک سے بھوکی ہے دنیا ہماری پیاس سے صحرا بنا ہے نکل بھی لو کہ اس بستی میں اکثر دریچوں سے سمندر جھانکتا ...

مزید پڑھیے

چاند کو ریشمی بادل سے الجھتا دیکھوں

چاند کو ریشمی بادل سے الجھتا دیکھوں وہ ہوا ہے کبھی آنچل کبھی چہرا دیکھوں دیکھنے نکلا ہوں دنیا کو مگر کیا دیکھوں جس طرف آنکھ اٹھاؤں وہی چہرا دیکھوں اس کے چہرے سے لپک اٹھے تو لو تھم جائے دل میں حسرت ہے دریچہ وہی کھلتا دیکھوں دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے خود سے نکلوں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4558 سے 6203