قومی زبان

اب کے برس بھی مہکا مہکا خواب دریچا لگتا ہے

اب کے برس بھی مہکا مہکا خواب دریچا لگتا ہے دنیا چاند نظر آتی ہے سب کچھ اچھا لگتا ہے کیا جائیں یہ کیسی دعائیں ان آنکھوں نے مانگی تھیں مجھ کو اپنے کاندھوں پر بھی اس کا چہرہ لگتا ہے اس کو بچھڑے مدت گزری سارا جیون بیت گیا وہ آئے گا کچھ پوچھے گا اب بھی ایسا لگتا ہے اب بھی سونے من ...

مزید پڑھیے

ہر ادا مشکوک تیری مشتبہ ہر بات ہے

ہر ادا مشکوک تیری مشتبہ ہر بات ہے اللہ رکھے تو تو اک گنجینۂ شبہات ہے چور بازاری سمگلنگ قتل و غارت لوٹ مار کیا کمی ہے اپنے ہاں ہر چیز کی بہتات ہے ان کو صرف اس کام میں الجھائے رکھنا ہے غلط ہم نے مانا بچے جننا کار مستورات ہے نوٹ دکھلا کر اسے ہم کھینچ لائے اپنے ہاں ہم نہ کہتے تھے کہ ...

مزید پڑھیے

خبر پہنچی انہیں بھی کب بہار حشر ساماں کی

خبر پہنچی انہیں بھی کب بہار حشر ساماں کی فضا میں دھجیاں جب اڑ چکیں جیب و گریباں کی انہیں الجھا دیا کتنا کسی کے دست وحشت نے پریشانی پتہ دیتی ہے یہ زلف پریشاں کی وہ حسن آفت دیں اب نئی سج دھج سے نکلا ہے الٰہی خیر تقویٰ کی الٰہی خیر ایماں کی نہ پہنچا ان کے دامن تک تو مل جائے گا مٹی ...

مزید پڑھیے

سد راہ آپ اگر لغزش رفتار نہ ہو

سد راہ آپ اگر لغزش رفتار نہ ہو راہرو کو رہ‌ دشوار بھی دشوار نہ ہو دوریاں دورئ منزل کے توہم کی تھیں دیکھ نزدیک رگ جاں ہی کہیں یار نہ ہو کر سکے کیسے جلا کوئی اس آئینے پر بار صیقل بھی اٹھانے کو جو تیار نہ ہو کہیں اس کے لئے منزل کی کھلی ہے آغوش جس میں جوش سفر کوچۂ دل دار نہ ہو جوش ...

مزید پڑھیے

فضائے قرب میں بیتابیٔ دل بڑھتی جاتی ہے

فضائے قرب میں بیتابیٔ دل بڑھتی جاتی ہے محبت کی تڑپ منزل بمنزل بڑھتی جاتی ہے ادھر بارش مسلسل جلوہ ہائے بے محابا کی ادھر محدود نظارے کی مشکل بڑھتی جاتی ہے پہنچتا جا رہا ہوں اوج ادراک حقیقت تک برابر ہمت قطع منازل بڑھتی جاتی ہے ادھر میرے لئے چشم طلب خوب انجمن ان کی ادھر بے گانگیٔ ...

مزید پڑھیے

حسن کے گن گن سکوں یہ گن کہاں رکھتا ہوں میں

حسن کے گن گن سکوں یہ گن کہاں رکھتا ہوں میں لب نہیں کھلتے مگر ذوق بیاں رکھتا ہوں میں لو جہاں دی شمع نے میں بھی تڑپ کر جل بجھا فطرت پروانۂ آتش بجاں رکھتا ہوں میں پھر مرے دامن میں کوئی پھول کھلتا ہی نہیں جب ذرا قابو میں چشم خوں فشاں رکھتا ہوں میں بے لٹائے کٹ نہیں سکتی متاع عشق ...

مزید پڑھیے

دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیں

دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیں اپنے مطلب کا کوئی پھول گلستاں میں نہیں وعدۂ وصل پہ کھنچتا ہوا ہاں کا لہجہ ایک انداز ہے کہنے کا ترے ہاں میں نہیں آپ کہتے ہیں کہ تقدیر کی گردش میں رہے مانتا ہوں کہ یہ دل گیسوئے پیچاں میں نہیں بس کسی کا نہیں صیاد خطا کیا تیری آب و دانہ مری قسمت ...

مزید پڑھیے

دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کب

دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کب آتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کب ٹھہرا ہے اک جگہ دل خانہ خراب کب دریا میں گھر بنا کے رہا ہے حباب کب جب چھوڑ دی امید تو وہ مہرباں ہوئے ناکامیوں میں بخت ہوا کامیاب کب دیکھا ہے وصل غیر میں شب ان کو دیکھیے الٹا اثر دکھاتی ہے تعبیر خواب کب کیفیؔ کو ...

مزید پڑھیے

میرے خاموش خدا

مرے خاموش خدا ساتھ مرے بول ذرا مرے اندر تو اتر میری تمنا میں دھڑک میں جو آنکھوں میں تھکن رکھ کے سفر کرتی ہوں مری راتوں کو مرے خواب نہ ڈس جائیں کہیں میرے اندر وہ خیالات نہ بس جائیں کہیں جن کو ممنوعہ زمینوں کی حکایات کہا جاتا ہے تیرگی پر جسے لکھی ہوئی وہ رات کہا جاتا ہے جس کی قسمت ...

مزید پڑھیے

مٹی کے علاوہ ہیں کہاں ہم سے کہیں اور

مٹی کے علاوہ ہیں کہاں ہم سے کہیں اور افلاک نشیں اور ہیں ہم خاک نشیں اور یہ کس کی سرائے ہے شب و روز جہاں سے اک جائے مسافر تو اک آ جائے مکیں اور تجھ حسن مکمل میں قیامت کی کشش ہے یوسف تو ہزاروں ہیں مگر تجھ سا نہیں اور میں جان کی بازی بھی لگا دوں اے زمانے گر ڈھونڈ کے لا دے تو محمد سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4550 سے 6203