قومی زبان

نئی دہلی

کیا رنگ مرے شہر کا گنگا جمنی ہے دہلی نئی اجڑی ہوئی دہلی میں بنی ہے قبروں کا پتہ ہے نہ مزاروں کا ٹھکانا یہ شہر کی تعمیر ہے یا گورکنی ہے ارباب مشاہیر کا لینے کے لئے نام کچھ دور گذشتہ کی بھی تاریخ چھنی ہے ارونؔ کا کہیں بت تو کلاؤ کی کہیں سٹریٹ میدان میں سبزے سے بہار چمنی ہے رہتے ...

مزید پڑھیے

ہندو مسلمانوں کا اتحاد

جب ایک ہی چمن کی تم ہو بہار دونوں جب ایک ہی شجر کے ہو برگ و بار دونوں جب ایک ہی قلم کے ہو شاہکار دونوں جب ایک ہی وطن کے ہو افتخار دونوں آپس کی پھوٹ سے ہو کیوں دل فگار دونوں ہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں فرزند ہو حقیقی تم مادر وطن کے پروان چڑھ رہے ہو میووں سے اس چمن ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے

آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے تو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہے بھول کر دیکھا تجھے آنکھوں میں ہے تیری شبیہ دیکھتا ہی کیوں ادھر پیش نظر یہ بھی تو ہے چھپ کے اس کو دیکھنا چاہیں تو دیکھیں کس طرح دیکھتے دیکھے نہ کوئی ہم کو ڈر یہ بھی تو ہے یوں صنم ہم سے صفائی ...

مزید پڑھیے

کچھ برائے ساقیٔ گلفام پی لیتا ہوں میں

کچھ برائے ساقیٔ گلفام پی لیتا ہوں میں کچھ بہ اصرار لب مادام پی لیتا ہوں میں کچھ بنام غالبؔ و جوشؔ و جگرؔ فیضؔ و عدمؔ کچھ بیاد حافظ و خیام پی لیتا ہوں میں از سر نو سر پہ بالوں کو اگانے کے لیے حسب نسخہ روغن بادام پی لیتا ہوں میں میکدے میں جب بھی پیتا ہوں کبھی زاہد کے ساتھ بل ادا ...

مزید پڑھیے

جو اس زلف پیچاں کو ہم دیکھتے ہیں

جو اس زلف پیچاں کو ہم دیکھتے ہیں دھواں سا یہ ہر پیچ و خم دیکھتے ہیں نظر ان کی کمزور اتنی ہوئی ہے کہ عینک سے بھی اب وہ کم دیکھتے ہیں سنپولوں کو رکھتے تھے جن میں چھپا کر اب ان آستینوں میں بم دیکھتے ہیں ترے میکدے کے بلانوش مے کش نہ جن دیکھتے ہیں نہ رم دیکھتے ہیں وہ گزرے ہیں موٹر سے ...

مزید پڑھیے

مرا روزہ ہے

دور سے جلوہ دکھاؤ کہ مرا روزہ ہے تم مرے پاس نہ آؤ کہ مرا روزہ ہے گھٹ سکے دن تو گھٹاؤ کہ مرا روزہ ہے بڑھ سکے رات بڑھاؤ کہ مرا روزہ ہے قرض اٹھاؤ کہ چراؤ مگر اے اہل حرم بیسیوں کھانے پکاؤ کہ مرا روزہ ہے میرے بچو کہیں باغیچے میں کھیلو جا کر گل غپاڑہ نہ مچاؤ کہ مرا روزہ ہے باندھ لو آنکھوں ...

مزید پڑھیے

شراب ارغواں کو شیخ پہلے تو برا سمجھے

شراب ارغواں کو شیخ پہلے تو برا سمجھے مگر پھر رفتہ رفتہ صحت افزا شوربا سمجھے نظر بازوں کو بھی دھوکہ ہوا فیشن کی چھل بل سے وہ اکثر اچھی خاصی چھوکری کو چھوکرا سمجھے ہزاروں سال سے پولیس کی تفتیش جاری ہے حسینوں کی کمر کو وہ ہمیشہ لاپتا سمجھے ہوا کشمیر اور پنجاب میں اب تک نہ ...

مزید پڑھیے

یہ زلفوں کا محل گنبد نما معلوم ہوتا ہے

یہ زلفوں کا محل گنبد نما معلوم ہوتا ہے ترے سر پر کسی کا مقبرہ معلوم ہوتا ہے مزاج یار موسم کی طرح فوراً بدلتا ہے یہ انگلستان کی آب و ہوا معلوم ہوتا ہے کبھی سورج نہیں ڈوبا تمہارے حسن تاباں کا یہ سابق دولت برطانیہ معلوم ہوتا ہے ہمیشہ میری قسمت میں ہے افریقہ کی تاریکی یہ تیرا سایۂ ...

مزید پڑھیے

شکن اندر شکن یاد آ گیا ہے

شکن اندر شکن یاد آ گیا ہے وصال تشنہ تن یاد آ گیا ہے یہ دشت آرزو کی بے پناہی گھنے سپنوں کا بن یاد آ گیا ہے مرے رستے میں چٹانیں بہت ہیں مجھے اب کوہ کن یاد آ گیا ہے چراغ عریاں تن کو بھی بالآخر ہوا کا پیرہن یاد آ گیا ہے برستی جا رہیں بے تحاشا ان آنکھوں کو وطن یاد آ گیا ہے یہ کیسا ...

مزید پڑھیے

سواد شام سے ڈرتا ہوا نظر آیا

سواد شام سے ڈرتا ہوا نظر آیا فروغ مہر بھی مرتا ہوا نظر آیا نسیم صبح چلی اور فشار رنگ و بو کہیں قرار نہ کرتا ہوا نظر آیا زمیں پہ راکھ اڑی جب بھی خیمہ گاہوں کی افق پہ خون بکھرتا ہوا نظر آیا ہر ایک پھول دکھائی دیا کمان بدست ہر ایک خار نکھرتا ہوا نظر آیا نہ نیند آئی نہ کوئی ستارۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4549 سے 6203