قومی زبان

حق بات پہ مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتے

حق بات پہ مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتے یہ اہل جہاں کچھ بھی تو کرنے نہیں دیتے اس پار کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کشتی کوئی اس پار اترنے نہیں دیتے ہر جرم مرے نام کیے جاتے ہیں لیکن خود پر کوئی الزام وہ دھرنے نہیں دیتے ہے فکر انہیں مر کے بھی میں زندہ رہوں گا یہ سوچ کے ظالم مجھے مرنے ...

مزید پڑھیے

جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں

جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں ان شب زادوں کی نگری میں وہ سولی پر چڑھ جاتے ہیں اے میرے خدا کچھ تو ہی بتا یہ دور الم کب گزرے گا اس بستی میں تو مصنف بھی سچ کہنے سے گھبراتے ہیں اس دنیا میں اپنی خاطر اک لمحہ بھی خوشیوں کا نہیں فریاد کہ بس اب ہم ہی ہیں جو رنج پہ رنج اٹھاتے ...

مزید پڑھیے

پل بھر کو جس میں چین نہ آئے چھوڑ دو اس کاشانے کو

پل بھر کو جس میں چین نہ آئے چھوڑ دو اس کاشانے کو گلشن ہی جب کہ راس نہیں آباد کرو ویرانے کو ہجر کی رات تھی اتنی لمبی کاٹے سے ناں کٹتی تھی غم کی جوت جگائی میں نے اس دل کے بہلانے کو کیا کیا نعمت بخشی ہے اس پیارے نے یہ مت پوچھو درد دیا کچھ داغ دئے اور اشک دئے پی جانے کو کوئی تو تعبیر ...

مزید پڑھیے

بظاہر تجھ سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں ہے

بظاہر تجھ سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں ہے دلاسوں سے بہلتا یہ دل ناداں نہیں ہے چمن میں لاکھ بھی برسے اگر ابر بہاراں تو نخل دل ہرا ہونے کا کچھ امکاں نہیں ہے ہوائے وقت نے جس بستئ دل کو اجاڑا ہے اسے آباد کرنا کام کچھ آساں نہیں ہے وہ اک دیوار ہے حائل ہمارے درمیاں جو کسی روزن کا اس میں ...

مزید پڑھیے

رہے قائم مرا کلچر مرا ایماں زباں میری

رہے قائم مرا کلچر مرا ایماں زباں میری نہ ہو گم قلقل مینائے مغرب میں اذاں میری محبت میں بھلا کیا کام آتیں دھمکیاں میری حسینوں نے پکڑ کر توڑ دی ہیں پسلیاں میری مزا جب ہے کہ اک ہی قبر میں ہوں دفن ہم دونوں وہ کیا مرنا وہاں تیری لحد ہو اور یہاں میری کچن میں توڑ کر انڈے ستم توڑا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

شاعر بنے ہیں ڈاکٹر جو ڈاکٹر نہ تھے

شاعر بنے ہیں ڈاکٹر جو ڈاکٹر نہ تھے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے گیسوئے یار پہلے تو یوں مختصر نہ تھے فیشن ہی کچھ طویل تھا یا باربر نہ تھے آئے مری لحد پہ وہ غیروں کی کار میں آنچل تمام خشک تھا رخسار تر نہ تھے خانہ بدوش اگر رہا مجنوں تو کیا ہوا یہ وہ زمانہ تھا کہیں صحرا میں گھر ...

مزید پڑھیے

محبت کو نہ رکھو دل کے نازک آبگینوں میں

محبت کو نہ رکھو دل کے نازک آبگینوں میں یہ ایسا آب زم زم ہے جسے رکھتے ہیں ٹینوں میں سمندر کا سفر کیسے کریں گے وہ سفینوں میں جو بزدل ڈر کے مارے ڈوب جاتے ہیں پسینوں میں بڑی تشویش پھیلی ہے وطن کے تارکینوں میں انہیں ملتی ہیں سو سو دھمکیاں دو دو مہینوں میں عجائب گھر میں رکھیے یہ کسی ...

مزید پڑھیے

میخانے کے در پر جو لٹکا نظر آتا ہے

میخانے کے در پر جو لٹکا نظر آتا ہے یہ شیخ حرم ہی کا کرتا نظر آتا ہے پاؤڈر ہے کہ چہرے پر آٹا نظر آتا ہے محبوب خود آرا تو بنیا نظر آتا ہے لڑکا نظر آتی ہے لڑکی نظر آتا ہے مغرب کا جو سیدھا ہے الٹا نظر آتا ہے ململ کا عمامہ تو لندن میں نہیں ملتا اے شیخ ترے سر پر ڈھاکہ نظر آتا ہے غائب ...

مزید پڑھیے

شراب ارغواں کو شیخ پہلے تو برا سمجھے

شراب ارغواں کو شیخ پہلے تو برا سمجھے مگر پھر رفتہ رفتہ صحت افزا شوربا سمجھے نظر بازوں کو بھی دھوکہ ہوا فیشن کے چھل بل سے وہ اکثر اچھی خاصی چھوکری کو چھوکرا سمجھے علاج درد دل میرا کرے وہ چارہ گر کیسے جو دل گردے کو سمجھے اور جگر کو پھیپھڑا سمجھے ہزاروں سال سے پولیس کی تفتیش جاری ...

مزید پڑھیے

مشرقی دنیا میں بیوی ہے اگر نوکر کا نام

مشرقی دنیا میں بیوی ہے اگر نوکر کا نام مغربی دنیا میں شوفر جانیے شوہر کا نام رسم شادی گھٹ رہی ہے بڑھ رہی ہے دوستی ماں بتا سکتی نہیں بچوں کو اب فادر کا نام شادیاں دشوار تر کرنے لگی رسم جہیز لب پہ آسانی سے آتا ہی نہیں دختر کا نام کشت و خوں میں کٹ رہے ہیں اس طرح لوگوں کے سر آدمی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4551 سے 6203