قومی زبان

دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں

دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں جھلملائے جیسے لہروں پر کرن آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں پاؤں کی پازیب کے گھنگھرو تھے اشک ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں جب نگر کی دھوپ میں جلنا پڑا یاد آئیں گاؤں کی امرائیاں اب بھلا تنہا کہاں میں رہ گیا ساتھ ہیں میرے مری ...

مزید پڑھیے

یادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پر

یادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پر جیسے اگا ہوں ننھا سا پودا مزار پر پلکوں پہ ان کی ٹھہرے ہیں آنسو کچھ اس طرح آ بیٹھیں جیسے زخمی پرندے دوار پر دکھ درد نئیں آہ مجھے پھر سے تھام لو کہتے ہیں مجھ سے لوگ کہ میں ہوں اتار پر اب چاہے جیسے کھیلے ہمارے نصیب سے ہم نے تو چھوڑا فیصلہ ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ مضراب تو ہے ساز کہاں سے لاؤں

مجھ پہ مضراب تو ہے ساز کہاں سے لاؤں دل میں گھر کرنے کے انداز کہاں سے لاؤں میرے گیتوں میں بھی پر کیف کشش ہے لیکن ہو اثر جس میں وہ آواز کہاں سے لاؤں میری ہر بات بتا دیتی ہیں میری آنکھیں جو رہے دل میں ہی وہ راز کہاں سے لاؤں انتہا ہے تو کوئی ابتدا لازم ہوگی اپنے انجام کا آغاز کہاں سے ...

مزید پڑھیے

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی کہہ دو کہ بات جھوٹ ہے ان کے شباب کی شام وصال سیج پہ شرمائے جوں دلہن شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گلاب کی پتھر اچھال دیجئے یوں دل کی جھیل میں ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی منزل قریب آئی تو بھٹکا دیا گیا ان رہبروں نے زندگی میری خراب کی حالات نے ...

مزید پڑھیے

اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں

اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں یہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیں اپنا سایہ تلک نہ تھا اپنا ہم نے ایسے بھی دن گزارے ہیں خود کو خوابوں کے مول بیچا ہے قرض یادوں کے تب اتارے ہیں اپنا کہنے کو یوں تو دنیا ہے ہم ازل سے ہی بے سہارے ہیں درد کی چھاؤں میں چلو واحدؔ تپتے موسم کے یہ اشارے ہیں

مزید پڑھیے

وہ دیکھنے میں فقط راستے کا پتھر ہے

وہ دیکھنے میں فقط راستے کا پتھر ہے ہزار راہبروں سے مگر وہ بہتر ہے سمے کمہار ہے جو چاک پر نچاتا ہے یہ زندگی تو صراحی کا ناچنا بھر ہے جو خالی ہاتھ ہے آیا وہ کیا خریدے گا اسے تو دنیا کے میلے کو دیکھنا بھر ہے یہ دیکھنا ہے کہ جیتے گا کون بازی کو مقابلے میں مرا گھر ہے اور محشر ہے غموں ...

مزید پڑھیے

میری راہوں میں ترے نقش قدم رہنے دے

میری راہوں میں ترے نقش قدم رہنے دے مجھ پہ للہ محض اتنا کرم رہنے دے ٹوٹے دیپک کو ہٹا مت تو مرے آگے سے میری نظروں کو اجالے کا بھرم رہنے دے عکس اپنا کوئی دیکھے ہے مرے اشکوں میں اور کچھ دیر مری آنکھوں کو نم رہنے دے شاعر وقت حقیقت میں وہی ہوتا ہے اپنے شعروں میں جو دشواریاں کم رہنے ...

مزید پڑھیے

پکارتا ہوں میں الامان الامان اللہ

پکارتا ہوں میں الامان الامان اللہ بچا لے میرے یقین اللہ کی جان اللہ وہ جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں ترے لیے ہی مکان اللہ وہ یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف وقت اذان اللہ ترے تغافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر نہ جان ...

مزید پڑھیے

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے وہ تیر بعد میں پہلے سوال کھینچتا ہے سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے نکل بھی سکتا ہوں قید تخیلات سے گر وہ شخص کھینچ لے ...

مزید پڑھیے

عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیں

عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیں وہ بیٹھا ہے تو چلئے بیٹھتے ہیں مری آنکھوں میں گنجائش تو کم ہے پر اس کے خواب پورے بیٹھتے ہیں اٹھیں نظریں تو نظروں سے گریں گے یہاں نظروں پہ پہرے بیٹھتے ہیں ادب کا فرش ہے یہ اس پہ بچے بزرگوں کے سہارے بیٹھتے ہیں وہ خود مرکز میں تھوڑی بیٹھتا ہے سب اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4543 سے 6203