قومی زبان

وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے

وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئے دل ہم حضور جاناں کہ جیسے کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا ہوں اک اس کے آگے چراغ رکھ دے اک اس کے پیچھے چراغ ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے بغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہے میں جانتا ہوں محبتوں کا مقام آخر سو اس کے کمرے سے مجھ کو پنکھا نکالنا ہے نکال پھینکی گھڑی کلائی سے اس کی دی ہوئی اب اپنے خاطر اک آدھ گھنٹہ نکالنا ہے زمین کھودیں جنہیں بنانی ہیں قبر گاہیں زمین جوتیں جنہیں خزانہ ...

مزید پڑھیے

بی ٹی نامہ

ہم نوا کون سی امید پہ خاموش رہوں کس لیے شاہد بی ٹی کی میں پاپوش رہوں چیز کیا ہے سگ کالج کہ میں خرگوش رہوں کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں آج میں بی ٹی لیے دست و گریباں ہوں گا ناصحا پاس نہ آنا کہ میں ناداں ہوں گا میں تو سمجھا تھا کہ بی ٹی ہے کوئی کار ثواب دیکھی اندر سے مگر آ کے ...

مزید پڑھیے

ختم ہے بادل کی جب سے سائبانی دھوپ میں

ختم ہے بادل کی جب سے سائبانی دھوپ میں آگ ہوتی جا رہی ہے زندگانی دھوپ میں چاند کی آغوش میں ہونے سے جس کا ہے وجود کھل سکے گی کیا بھلا وہ رات رانی دھوپ میں اس کی فرقت کی تپش میں میں جھلس کر رہ گئی ورنہ اتنی تاب کب تھی آسمانی دھوپ میں کچھ چمکتا سا نظر آنے لگا ہے ریت میں بڑھ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے اسے دیکھا نہیں

ایک مدت سے اسے دیکھا نہیں اب مگر کاجل مرا بہتا نہیں اک مرض میں مبتلا ہے دل مرا کیا مرض ہے یہ پتہ چلتا نہیں دوستی جب سے ہوئی تعبیر سے خواب پیچھا ہی مرا کرتا نہیں جی نہیں سکتا ہے وہ میرے بنا اس قدر وشواس بھی اچھا نہیں دور سے آواز دیتا ہے کوئی اور میرے سامنے رستا نہیں سارے موسم ...

مزید پڑھیے

ہمیں بربادیوں پہ مسکرانا خوب آتا ہے

ہمیں بربادیوں پہ مسکرانا خوب آتا ہے اندھیری رات میں دیپک جلانا خوب آتا ہے غلط فہمی تمہیں کچھ اور آتا ہو نہ آتا ہو اچانک آگ پانی میں لگانا خوب آتا ہے ذرا سی بات پہ دیوار کھینچوانے لگا ہے وہ اسے بھی رائی کا پربت بنانا خوب آتا ہے ترے ہر جھوٹھ کو سچ مان لیتے ہیں ہمیشہ ہم ہمیں بھی ...

مزید پڑھیے

یہ محبت جو محبت سے کمائی ہوئی ہے

یہ محبت جو محبت سے کمائی ہوئی ہے آگ سینہ میں اسی نے تو لگائی ہوئی ہے اک وہی پھول میسر نہ ہوا دامن کو جس کی خوشبو میری رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے جب بھی آنکھوں نے سجائے ہے تمہارے سپنے ذہن اور دل میں بہت دیر لڑائی ہوئی ہے دل کی چوکھٹ پہ جلا رکھے ہے آنکھوں نے چراغ کس کی آمد کی ابھی آس ...

مزید پڑھیے

مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملی

مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملی ہر ایک چیز ملی ایک زندگی نہ ملی تری تلاش میں پیروں میں پڑ گئے چھالے مگر اے منزل مقصود تو کبھی نہ ملی خوشی سے دوستی میری بھی تھی مگر اک دن خفا ہوئی وہ کچھ ایسی کہ پھر کبھی نہ ملی وہ جس چراغ کے دم سے مکان روشن تھا اسی چراغ کو خود اپنی روشنی نہ ...

مزید پڑھیے

وہ کاش مان لیتا کبھی ہم سفر مجھے

وہ کاش مان لیتا کبھی ہم سفر مجھے تو راستو کے پیچ کا ہوتا نہ ڈر مجھے بے شک یہ آئنہ مجھے جی بھر سنوار دے پر دیکھتی نہیں ہے اب اس کی نظر مجھے دیوار جو گری ہے تو الزام کس کو دوں میری خوشی ہی لائی تھی ساجن کے گھر مجھے مایوسیوں نے شکل کی رنگت بگاڑ دی پہچانتا نہیں ہے مرا ہی نگر ...

مزید پڑھیے

مکدر ہی تھا کچھ ایسا ہمارا

مکدر ہی تھا کچھ ایسا ہمارا سفر کٹتا رہا تنہا ہمارا کئی چہروں کا غم ہے اس میں شامل ہمارا ہے کہاں چہرہ ہمارا وہ بھولے اور ہم بھولے نہ ان کو تعلق ہے یہی ان کا ہمارا ہمیں منزل پے آ کر یہ خلش ہے پلٹ جاتے تو کیا جاتا ہمارا نبھانے کی مسلسل کوششوں میں بگڑتا ہی گیا رشتہ ہمارا چڑھاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4544 سے 6203