قومی زبان

ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کر (ردیف .. ن)

ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کر شمعیں زمین کی ہیں جو داغ آسماں کے ہیں جنت میں خاک بادہ پرستوں کا دل لگے نقشے نظر میں صحبت پیر مغاں کے ہیں اپنا مقام شاخ بریدہ ہے باغ میں گل ہیں مگر ستائے ہوئے باغباں کے ہیں اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا

نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا سلامت میری گردن پر رہے بار الم میرا لکھا یہ داور محشر نے میری فرد عصیاں پر یہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا کہا غنچہ نے ہنس کر واہ کیا نیرنگ عالم ہے وجود گل جسے سمجھے ہیں سب ہے وہ عدم میرا کشاکش ہے امید و یاس کی یہ زندگی کیا ہے الٰہی ...

مزید پڑھیے

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا بہار گل میں دیوانوں کا صحرا میں پرا ہوتا جدھر اٹھتی نظر کوسوں تلک جنگل ہرا ہوتا مئے گل رنگ لٹتی یوں در مے خانہ وا ہوتا نہ پینے کی کمی ہوتی نہ ساقی سے گلا ہوتا ہزاروں جان دیتے ہیں بتوں کی بے وفائی ...

مزید پڑھیے

عمر کے لمبے سفر سے تجربہ ایسا ملا

عمر کے لمبے سفر سے تجربہ ایسا ملا دھوپ جب بھی سر پہ آئی لاپتا سایہ ملا دیکھنا ہے عکس مجھ کو اپنا پورا ہی مگر جب ملا وو آئنہ مجھ کو ذرا ٹوٹا ملا ہنستے چہروں کی کہانی جانتی ہوں خوب میں جس کو بھی پرکھا وہی ٹوٹا ملا بکھرا ملا جل رہے تھے پاؤں اک مدت سے راحت کے لیے جس طرف بھی میں گئی ...

مزید پڑھیے

کھو گیا ہے جو اس کو کھونے دو

کھو گیا ہے جو اس کو کھونے دو پھر نیا خواب مجھ کو بونے دو بستیوں کو اجاڑنے والو اب مداری کا کھیل ہونے دو خواہشوں خواب دیکھنا چھوڑو نیند آئی ہے مجھ کو سونے دو روشنائی نہ ختم ہو جائے کاغذوں کو سیاہ ہونے دو ہر گھڑی یہ خیال آتا ہے زندگی کے ہیں صرف کونے دو جھوٹ بنیاد ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

نئی پوشاک پہنے ہے پرانے خواب کی حسرت

نئی پوشاک پہنے ہے پرانے خواب کی حسرت میں ہنس کر ٹال دیتی ہوں دل بیتاب کی حسرت محبت اور کیا ہے اک سراب تشنگی تو ہے وحی صحرا کی چم چم میں چمکتے آب کی حسرت نیا کردار گڑھ کر میں کہانی ہی بدل دیتی مگر پوری نہ ہو پائی نئے اک باب کی حسرت تمہاری یاد کا گہرا تعلق آنسوؤں سے ہے مری پلکوں کو ...

مزید پڑھیے

زندگی کی یہی کہانی ہے

زندگی کی یہی کہانی ہے سانس آنی ہے اور جانی ہے تم جو ہوتے تو بات کچھ ہوتی اب کہ بارش تو صرف پانی ہے اک طرف اس کی بولتی آنکھیں اک طرف میری بے زبانی ہے یوں ہی سنتے رہیں اگر دل کی یاد رکھئے کہ جان جانی ہے دھوپ لگتی ہے بادلو جیسی یہ محبت کی سائبانی ہے بہتی جاتی ہوں اک سمندر میں اس ...

مزید پڑھیے

جلے چراغ بجھانے کی ضد نہیں کرتے

جلے چراغ بجھانے کی ضد نہیں کرتے اب آ گئے ہو تو جانے کی ضد نہیں کرتے کسی کی آنکھ میں آنسو ہمیں پسند نہیں دلوں کے زخم دکھانے کی ضد نہیں کرتے تمہارے نام کا بھی ذکر ہو نہ جائے کہیں غزل کے شعر سنانے کی ضد نہیں کرتے ہمارے سائے بھی رستے میں چھوڑ جاتے ہے ہمارا ساتھ نبھانے کی ضد نہیں ...

مزید پڑھیے

بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوں

بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوں یہ گیت یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوں ہے کوئی خریدار تو آواز لگائے روٹی کے عوض شعر و سخن بیچ رہا ہوں کیا دام لگاتے ہو چلو تم ہی بتاؤ سچائی کا انمول رتن بیچ رہا ہوں پرکھوں نے بنایا تھا جسے لاکھ جتن سے تہذیب و ادب کا وہ بھون بیچ رہا ہوں تم ٹھیک ہی کہتے ...

مزید پڑھیے

لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا

لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا جیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیا کل چھانو مل سکے گی سبھی کو یہ سوچ کر جس نے لگائے پیڑ وہ بوڑھا کدھر گیا جو پتھروں کے بدلے میں دیتا تھا پھل مجھے دور خزاں بتا تو کہاں وہ شجر گیا قائم ہے دل میں آج بھی اڑنے کا حوصلہ صیاد وقت لاکھ مرے پر کتر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4542 سے 6203