ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیں
ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیں جہان عشق کی اندھی گلی سے نکلے ہیں کسی سے کہتے تو الزام اپنے سر آتا یہ حادثہ تھا سو ہم خامشی سے نکلے ہیں ہمیں یقین نہیں ہے کسی دکھاوے میں سو سمت ہجر میں ہم سادگی سے نکلے ہیں نہیں ہے قید کسی دائرے میں اپنی ذات جہاں بھی نکلے ہیں آوارگی سے نکلے ...