قومی زبان

ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیں

ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیں جہان عشق کی اندھی گلی سے نکلے ہیں کسی سے کہتے تو الزام اپنے سر آتا یہ حادثہ تھا سو ہم خامشی سے نکلے ہیں ہمیں یقین نہیں ہے کسی دکھاوے میں سو سمت ہجر میں ہم سادگی سے نکلے ہیں نہیں ہے قید کسی دائرے میں اپنی ذات جہاں بھی نکلے ہیں آوارگی سے نکلے ...

مزید پڑھیے

جواز

زندگی کتنی ہے عجیب و غریب زندگی کیا ہے اک تماشا ہے زندگی رہ گزار بے منزل بے طلب بے حصول جینا ہے ہیں فقط چند لوگ ہی مختار اور باقی جو ہیں وہ بندے ہیں کیا پھرے ہیں گلے میں لٹکائے رنج و مظلومیت کے پھندے ہیں پھر بھی جیتے ہیں کیا خبر کیا ہو کچھ دوامی نہیں نظام کہن گرچہ ہے یہ مقام‌ درد و ...

مزید پڑھیے

ملاقات

ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں ان گنت زاویے افکار کے لے آتے ہیں ان کھلونوں سے وہ اذہان کو بہلاتے ہیں اپنے کرتب پہ وہ اٹھلاتے ہیں اتراتے ہیں اور موہوم سی تسکین یوں ہی پاتے ہیں ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ...

مزید پڑھیے

رات

رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیں پوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہے پوچھنے سے کیا حاصل پوچھنے سے کیا ہوگا محشر اک بپا ہوگا شور ناروا ہوگا درد کم تو کیا ہوگا اور کچھ سوا ہوگا کون کس کی سنتا ہے کس کو اتنی فرصت ہے داد خواہ بننا بھی فعل بے فضیلت ہے داد سم قاتل ہے مرنا کس کو بھاتا ...

مزید پڑھیے

امید

زیست یوں ہی نہ رہے گی مغموم زندگانی کو بدلنا ہوگا لاکھ آمادۂ سازش ہے یہ شب اس شب تیرہ کو ڈھلنا ہوگا موت کا سایہ لرزتا ہے تو کیا وقت آلام کو لایا ہے تو کیا نامۂ درد جو آیا ہے تو کیا غم کو سہہ جائیں دلاور بن کر پی لیں دریا کو سمندر بن کر غم تو آتے ہی رہیں گے پیہم آتے جاتے ہی رہیں گے ...

مزید پڑھیے

غم حیات

غم حیات کے نغموں کا میں مغنی ہوں غم حیات کی لذت کا ہوں میں شیدائی یہ جذبہ جو دل بیتاب سے فزوں تر ہے کہیں سے گردش شام و سحر اڑا لائی نظر کو دیتا ہے یہ روشنی تجسس کی یہ غم بناتا ہے دل کو دل تمنائی یہ راز ہائے تگ و دو کو فاش کرتا ہے یہ راہرو کو سکھاتا ہے جادہ پیمائی اسی سے گرمیٔ بزم حیات ...

مزید پڑھیے

تہذیب

یہ تہذیب آخر بنائی ہے کس نے زمانے کی عزت بڑھائی ہے کس نے بنا کر بدلنے کا مختار ہے کون حیات مسلسل کا فن کار ہے کون مشینوں میں کس کا لہو چل رہا ہے یہ کس کے لہو پر جہاں پل رہا ہے بتا دو خدا کے لیے اب بتا دو حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا دو

مزید پڑھیے

آغاز

اک نئے دور کا آغاز ہوا در آشفتہ سری باز ہوا نا شکیبائی کی چلتی ہے ہوا بے یقینی کی ابھرتی ہے صدا آئے منڈلاتے ہوئے ابر شعور لیے ہم راہ خیالات جسور منتظر شوق ہے بے چین نڈھال جانے کب موسم باراں آئے ہائے تبدیلی موسم کی امید رنگ لائے ہے بتدریج جنوں ٹوٹنے والا ہے ہر ایک فسوں ہاں خداؤں کی ...

مزید پڑھیے

خود کو مصروف عبادت کر دیا

خود کو مصروف عبادت کر دیا حسرتوں کو دل سے رخصت کر دیا ہو گئیں آسان ساری منزلیں دل کو پابند شریعت کر دیا تجھ سے پہلے میری قیمت کچھ نہ تھی تو نے مجھ کو بیش قیمت کر دیا مفلسی میں تھی مروت دوستو مال و زر نے بے مروت کر دیا درد بن کر زندگی نے ایک دن راحتوں کو گھر سے رخصت کر دیا

مزید پڑھیے

اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہے

اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہے اس بزم میں شاید کوئی دیوانہ نیا ہے آیا ہے بڑے شوق سے محفل میں ستم گر اے شمع ذرا سوچ لے پروانہ نیا ہے دیکھیں ہیں زمانے میں حسیں اور بھی لیکن اس غیرت گل ناز کا اترانا نیا ہے اے رند قدم اپنا ذرا سوچ کے رکھنا ساقی بھی نیا اور یہ مے خانہ نیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4519 سے 6203