قومی زبان

نقش فریادی

وائے ناداریاں ہائے مجبوریاں رسم و آداب کے بس میں ہے زندگی غیر کی ہو کے پردیس جاتی ہو تم حسرت و یاس و حرماں میں ڈوبی ہوئی جیسے شاداب سی جھیل میں اک کنول چڑھتے سورج کی تیزی سے کملائے ہے یا بہ عہد بہاراں کسی اک سبب جیسے پھولوں سے رنگت اتر جائے ہے ہر سہیلی تبسم بہ لب ہے مگر تم ہی ...

مزید پڑھیے

بے چینی

خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تک گھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضا نہ جاننے سے چلی بات جاننے کی طرف سکوت موت ہے لیکن سکوت ختم ہوا جنوں سرشت سے جذبے عمل کی راہوں میں لباس اوڑھے ہوئے عزم کا نکلتے ہیں خرد کے دیس میں تنظیم زندگی لے کر بہت ہی کم ہیں جو ایسے سنور کے چلتے ہیں حیات ...

مزید پڑھیے

زندگی اس طرح گزاری ہے

زندگی اس طرح گزاری ہے سلسلہ ختم سانس جاری ہے درد غم اشک اور مایوسی تیری امید سب پہ بھاری ہے میں نے ڈھونڈھی تو مختصر پائی دنیا جو دکھتی اتنی ساری ہے نیند کے بازو ٹوٹ جاتے ہیں خواب کا بوجھ اتنا بھاری ہے کھیل کھیلا تھا عمر کا لیکن موت جیتی حیات ہاری ہے یہ نہیں رات کا سیہ آنچل یہ ...

مزید پڑھیے

آسماں کھول دیا پیروں میں راہیں رکھ دیں

آسماں کھول دیا پیروں میں راہیں رکھ دیں پھر نشیمن پہ اسی شخص نے شاخیں رکھ دیں جب کوئی فکر جبیں پر ہوئی رقصاں میں نے خواب آنکھوں میں رکھے آنکھوں پہ پلکیں رکھ دیں درمیاں خامشی پہلے تو نہ آئی تھی مگر باتوں باتوں میں ہی اس نے کئی باتیں رکھ دیں اس نے جب توڑ دئے سارے تعلق مجھ سے کھینچ ...

مزید پڑھیے

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں دیکھتے ہیں سب تماشا کیا کہیں سخت پھندا ہے ہزاروں سال کا کس نے بن گانٹھوں کے باندھا کیا کہیں جگنوؤں کا جھنڈ من میں آ بسا ہے اجالا یا اندھیرا کیا کہیں لینے دینے سے ہوئے کتنے وہ خوش کھا گئے دونوں ہی دھوکا کیا کہیں بادلوں کے پیڑ اگ آئے گھنے کب دھنک ...

مزید پڑھیے

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے کرنوں نے سب چراغ سویرے بجھائے تھے چلنا پڑا ہوا کو بھی دامن سنبھال کر پھولوں کے ساتھ راہ میں کانٹے بچھائے تھے پانی بچا کے رکھ لیا ویرانیوں کے بیچ کس نے ہزاروں کوس سے پنچھی بلائے تھے سرسبز وہ ہی پیڑ ہوا موڑ کی طرح جس نے ہوا میں پنکھ سے پتے اڑائے ...

مزید پڑھیے

اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیں

اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیں کیوں یہ کمبخت مقدر سنورتا نہیں ایک ہم ہیں کہ ہم پر گھڑوں پڑ گیا ایک وہ ہیں کہ ان پر ٹھہرتا نہیں واں تو فطرت میں شامل ہے اور ہم پہ یاں غیریت کا گماں تک گزرتا نہیں تھا مقدس وہ مانند جنت کبھی کوئے جاناں سے اب میں گزرتا نہیں کس کشاکش میں ہیں زندگی و ...

مزید پڑھیے

میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوں

میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوں عجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوں ہوئی تاریکیاں رخصت منور زیست ہے میری تمہاری یاد کے جگنو میں پلکوں پر سجائے ہوں پھرایا در بدر بے کل جہاں میں خواب و خواہش نے مسلسل ہے سکوں ارمان و حسرت کو مٹائے ہوں مہکتی کیفیت سے ہے معطر زندگی ...

مزید پڑھیے

تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سے

تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سے تعلق نہیں جب دعا کا اثر سے جو پوچھا ہوا سے کیوں مہکی ہوئی ہو کہا اس نے آئی ہوں ہو کر ادھر سے رہ عشق دشوار ہے کس قدر یہ کبھی پوچھ دیکھو تو مجھ در بدر سے یوں محو سفر ہوں تری جستجو میں نظر میری آگے ہے شمس و قمر سے رہا بے خبر اہل‌ غربت کے غم سے سو خود گر ...

مزید پڑھیے

نہ لازم توقع ہے اہل محل سے

نہ لازم توقع ہے اہل محل سے کرو زیست شاداب علم و عمل سے حجاب و حیا سوچتے رہ گئے ہیں ملی عشق میں کامیابی پہل سے یوں ناکامیاں ہم سفر ہیں مسلسل کہ لے دے کے امید ہے اب اجل سے حیات و فنا کا یہ کیا سلسلہ ہے نہیں راز افشاں ہوا یہ ازل سے یتیمی و لا وارثی بیوگی کے بجز کچھ نہ حاصل ہے جنگ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4480 سے 6203