نقش فریادی
وائے ناداریاں ہائے مجبوریاں رسم و آداب کے بس میں ہے زندگی غیر کی ہو کے پردیس جاتی ہو تم حسرت و یاس و حرماں میں ڈوبی ہوئی جیسے شاداب سی جھیل میں اک کنول چڑھتے سورج کی تیزی سے کملائے ہے یا بہ عہد بہاراں کسی اک سبب جیسے پھولوں سے رنگت اتر جائے ہے ہر سہیلی تبسم بہ لب ہے مگر تم ہی ...