قومی زبان

وہ کسی اور سے ملا ہوگا

وہ کسی اور سے ملا ہوگا دل یہ کہتا ہے واہمہ ہوگا میرے دل میں دھمال پڑتی ہے لوگ شک میں کہ عارضہ ہوگا اس کی یارو خبر ہی لے آؤ کوئی درپیش مسئلہ ہوگا پاؤں ٹکتا نہیں زمیں پر کیوں غور سے دیکھ آبلہ ہوگا خامشی کو جواب مت سمجھو عین ممکن نہ کچھ سنا ہوگا تم جسے کائنات کہتے ہو یار پانی کا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغ

مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغ پہلو میں رات بھر مرے بیٹھا رہا چراغ کہتا رہا کہ رات یہ کتنی حسین ہے تیرہ شبی کا گریہ بھی کرتا رہا چراغ سورج کا ایک بار فقط نام کیا لیا مجھ سے تمام رات ہی لڑتا رہا چراغ اس کو مری شکست کی اتنی خوشی ہوئی ہاتھوں پہ ہاتھ مار کے ہنستا رہا چراغ میں ...

مزید پڑھیے

بکھرا پڑا تھا جا بجا کچرا وجود کا

بکھرا پڑا تھا جا بجا کچرا وجود کا ہم چھوڑ آئے اس گلی ملبہ وجود کا ہر روز مانگ مانگ کے لیتا ہوں سانس بھی بڑھتا ہی جا رہا ہے یہ قرضہ وجود کا کتنی شکست و ریخت ہوئی کچھ نہیں پتا مجھ کو ملا نہیں ابھی قبضہ وجود کا تازہ ہوا نہ روشنی نا بام و در نہ چھت مجھ کو سمجھ نہ آ سکا نقشہ وجود ...

مزید پڑھیے

پگڈنڈی لگ رہی تھی پہاڑوں کے درمیاں

پگڈنڈی لگ رہی تھی پہاڑوں کے درمیاں نکلی ہوئی تھی مانگ یوں بالوں کے درمیاں پہلے تکلفات سبھی بر طرف ہوئے پھر گفتگو شروع ہوئی آنکھوں کے درمیاں ہجر و فراق اور یہ تنہائی مار دے وقفہ اگر نہ دن کا ہو راتوں کے درمیاں سینے پہ ہاتھ کیا رکھا دھڑکن سنبھل گئی ہچکی سی ایک قید تھی سانسوں کے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے جہان فانی میں مار دینا

اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے جہان فانی میں مار دینا مکان والے سے التجا ہے کہ لا مکانی میں مار دینا مرے عزیزو میں جا رہا ہوں مری وصیت کو یاد رکھنا جو مجھ سا کوئی بھی ایک دیکھو اسے جوانی میں مار دینا مجھے ہے معلوم اے مصنف کہ میرا کردار ثانوی ہے جہاں اضافی لگے تمہیں یہ مجھے کہانی میں ...

مزید پڑھیے

ان کے عارض پہ اشکوں کے دھارے

ان کے عارض پہ اشکوں کے دھارے جیسے پھولوں کو شبنم سنوارے غم نہ کر اس جہان طلب میں ٹوٹ جاتے ہیں اکثر سہارے تم نے منطق سے الفت کو سمجھا تم ہی جیتے چلو ہم ہی ہارے غم کی زحمت میں کیا کچھ نہ بیتی رات کاٹی ہے گن گن کے تارے چھوڑ کر مجھ کو بحر الم میں تیری کشتی گئی ہے کنارے اس کو فخر ...

مزید پڑھیے

تم تھے اور آلام بہت تھے

تم تھے اور آلام بہت تھے اور وہ صبح و شام بہت تھے تجھ میں بھی کچھ بات ہے ورنہ دیوانے بدنام بہت تھے میں ہی رہا اک پیاس کا مارا میخانے میں جام بہت تھے چند ہی نظریں واں تک پہنچیں نظارے سر بام بہت تھے زانو و سر کی لاج رہی ہے پہرے تو ہر گام بہت تھے آپ مرا کیوں دم بھرتے ہیں مجھ پر ہی ...

مزید پڑھیے

غم دل کو بدل جانے کی ضد ہے

غم دل کو بدل جانے کی ضد ہے مگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہے بگڑتی جا رہی ہے میری دنیا مگر مجھ کو سنبھل جانے کی ضد ہے ہر اک طوفاں کو پیچھے چھوڑ آؤں حوادث سے نکل جانے کی ضد ہے مری فطرت بدل جائے تو کیسے تری باتوں کو کھل جانے کی ضد ہے ترے زانو پہ میرا سر ہے لیکن مقدر کو مچل جانے کی ضد ...

مزید پڑھیے

خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہے

خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہے تجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہے متاع درد کہ بڑھتی رہی نہ جانے کیوں علاج درد مرے غم گسار کرتے رہے دیار حسن کے جلوے تھے خوب تر لیکن مری نظر کے لیے انتظار کرتے رہے مجھے تو رقص مصائب بھی راس آ نہ سکے وہ بزم ہائے سرود و ستار کرتے رہے کبھی یقین ...

مزید پڑھیے

ہے اجنبی ناآشنا وہ گھر ترا یہ گھر مرا

ہے اجنبی ناآشنا وہ گھر ترا یہ گھر مرا دل کی طرح پھر کیوں جلا وہ گھر ترا یہ گھر مرا اک آدمی سے جس طرح اک آدمی کچھ دور ہے ہے پاس ہو کر دور سا وہ گھر ترا یہ گھر مرا اک جھونپڑی پھر اک مکاں پھر اک عمارت خاک پھر کتنے لباسوں میں رہا وہ گھر ترا یہ گھر مرا میں نے بہائے تھے کبھی جو داغ دھونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4481 سے 6203