قومی زبان

تیری الفت وصول ہو جیسے

تیری الفت وصول ہو جیسے نعمتوں کا نزول ہو جیسے تو مرے آسماں کا تارہ ہے دل تری رہ کی دھول ہو جیسے تیرے تابع ہی چلنے لگتا ہے وقت تیرا اصول ہو جیسے تیرا دیدار ہو رہا ہے مجھے میری منت قبول ہو جیسے حسرتوں سے الجھتی رہتی ہوں زندگانی ببول ہو جیسے کپکپی سی بدن میں اتری ہے میری حالت ...

مزید پڑھیے

یاد کرنا محال لگتا ہے

یاد کرنا محال لگتا ہے حافظے کا کمال لگتا ہے گرم ہاتھوں سے آنچ آتی ہے سردیوں کی وہ شال لگتا ہے وقت ہو دوست یا کوئی پل ہو جو بھی گزرا کمال لگتا ہے حبس اتنا ہے میری مٹی میں سانس لینا محال لگتا ہے ہجر برسا ہے آنکھ سے جب بھی مجھ کو بھادوں کا حال لگتا ہے کون دیکھے گا ہاتھ پر قسمت بس ...

مزید پڑھیے

راستہ کوئی دیکھتا ہوگا

راستہ کوئی دیکھتا ہوگا کوئی آگے نکل گیا ہوگا رات پہلو میں سو گئی میرے رات کو چین آ گیا ہوگا مری آنکھوں میں اشک آنے لگے کیا مجھے عشق اب عطا ہوگا جس کو ماضی سکون دیتا ہے کس طرح مجھ کو بھولتا ہوگا خوب صورت ہیں اس لئے پتھر کوئی ان میں خدا رہا ہوگا زندگی تلخ تو نہیں لیکن واقعہ ...

مزید پڑھیے

ہم آیت قرآنی اس وقت ہی پڑھتے ہیں

ہم آیت قرآنی اس وقت ہی پڑھتے ہیں ہو جان ہتھیلی پر طوفاں سے گزرتے ہیں کب تاب نظارہ ہے بس دید کی حسرت ہے مل جاؤ کسی دن تم دن رات تڑپتے ہیں رہتا ہے محبت کو ہر وقت ہی دھڑکا سا موسم کی طرح کہتے ہیں دوست بدلتے ہیں یہ رات کی رانی تو اب میری سہیلی ہے ہم ہنستے ہیں دونوں ہی دونوں ہی مہکتے ...

مزید پڑھیے

ان آندھیوں کے ساتھ کئی گھونسلے گئے

ان آندھیوں کے ساتھ کئی گھونسلے گئے تم کیا گئے کہ میرے تو سب حوصلے گئے اک خواب میں نے دیکھا تھا پچھلے پہر کوئی اگلے پہر کی نیند کے لو سلسلے گئے اک چاند آسمان پہ اک میرے سامنے ان قربتوں میں دل کے سبھی فاصلے گئے ہیں ہچکیاں بھی غم کی اور آہیں ہیں آنسو بھی دیکھو غریب شہر کہ سب قافلے ...

مزید پڑھیے

میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں

میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں آنے کا اس نے وعدہ کیا ہے بہار میں رکھی ہوئی ہے لاج مری میرے عشق نے ورنہ تو کیا رکھا ہوا ہے انتظار میں گھر بھی مجھے تو دشت سا لگتا ہے تیرے بن لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں اب جو سلوک تو کرے یہ ظرف ہے ترا میں آ گئی ہوں آج ترے اختیار میں روشن نہ ...

مزید پڑھیے

ہے اداسی کا مرتکب کوئی

ہے اداسی کا مرتکب کوئی مجھ میں رہتا ہے مضطرب کوئی چاند بھی روشنی نہیں دیتا جب سے روٹھا ہے بے سبب کوئی اپنے موقف کی بات کرتا ہے مجھ سے ملتا ہے آ کے جب کوئی میں تو سنتی نہیں ہوں اپنی بھی یہاں ہوتا ہے اپنا کب کوئی کیجیے غم سے آپ ہی پردہ کہہ رہا ہے یہ محتجب کوئی

مزید پڑھیے

یہ نہ سوچا تھا کبھی پیار میں ایسا ہوگا

یہ نہ سوچا تھا کبھی پیار میں ایسا ہوگا درمیاں بھیڑ کے بھی کوئی اکیلا ہوگا وہ زمانے میں کوئی شخص نرالا ہوگا جس نے مجبور کے کردار کو پرکھا ہوگا عشق وہ خشک زمیں ہے کہ جہاں میلوں تک دھوپ کا دشت کہیں ریت کا دریا ہوگا ایک میدان تصور میں مرے ہے کہ جہاں کوئی دیوار نہ دیوار کا سایہ ...

مزید پڑھیے

جب کسی صحرا سے ہو کر ایک دریا جائے گا

جب کسی صحرا سے ہو کر ایک دریا جائے گا تشنگی کا خوف یارو دل سے مٹتا جائے گا دن میسر ہم کو ہوگا کیا کبھی ایسا بھی اک ہر کسی انساں کے منہ میں جب نوالا جائے گا کیا عداوت روپ بھی لے گی بغاوت کا کبھی کیا کوئی پتھر یقیناً پھر اچھالا جائے گا حادثہ سچ مچ ہوا تھا سامنے میرے مگر کیا حقیقت ...

مزید پڑھیے

آج بھی قید ان آنکھوں میں کہانی ہے وہی

آج بھی قید ان آنکھوں میں کہانی ہے وہی مدتوں بعد بھی الفت کی روانی ہے وہی دھوپ کا جسم سر عام جلا کرتا ہے پھر بھی اس دھوپ کی پہلے سی جوانی ہے وہی وصل کی چاہ میں دوڑی ہے ندی ساگر تک آرزو اس کی زمانے سے پرانی ہے وہی جنم لیتی ہیں کہانی سے کہانی لاکھوں پھر بھی دیکھی ہے کہانی کی کہانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4455 سے 6203