مرا یہ ملبہ مرا خرابہ تمہاری یادوں سے لڑ رہا ہے
مرا یہ ملبہ مرا خرابہ تمہاری یادوں سے لڑ رہا ہے اسی کی تعمیر ہو رہی ہے وو ایک گھر جو نہیں بچا ہے پڑے ہوئے ہیں جلی بجھی سگرٹوں کے ٹکڑے ہر اک جگہ پر اور ایک چہرہ شگفتہ چہرہ تمام گھر میں بسا ہوا ہے لگا رہی ہے مجھے صدائے ہوا دریچے سے لڑتے لڑتے مرا یہ کمرہ خموش کمرہ کسی کی آہٹ سے بھر ...