قومی زبان

مرا یہ ملبہ مرا خرابہ تمہاری یادوں سے لڑ رہا ہے

مرا یہ ملبہ مرا خرابہ تمہاری یادوں سے لڑ رہا ہے اسی کی تعمیر ہو رہی ہے وو ایک گھر جو نہیں بچا ہے پڑے ہوئے ہیں جلی بجھی سگرٹوں کے ٹکڑے ہر اک جگہ پر اور ایک چہرہ شگفتہ چہرہ تمام گھر میں بسا ہوا ہے لگا رہی ہے مجھے صدائے ہوا دریچے سے لڑتے لڑتے مرا یہ کمرہ خموش کمرہ کسی کی آہٹ سے بھر ...

مزید پڑھیے

رات سے دن کا وہ جو رشتہ تھی

رات سے دن کا وہ جو رشتہ تھی شام تھی اور کیسی تنہا تھی خط کے پرزے پڑے تھے کمرے میں اک پرانی کتاب بھی وا تھی سب کے مطلب کے خواب تھے اس میں شب کے ہاتھوں میں ایک پڑیا تھی رات بھر آندھیوں کا دور چلا شاخ پر اک اداس چڑیا تھی ان دنوں جب وہ میرے ساتھ ہی تھا میری دنیا بھی ایک دنیا ...

مزید پڑھیے

ڈرا رہے ہیں یہ منظر بھی اب تو گھر کے مجھے

ڈرا رہے ہیں یہ منظر بھی اب تو گھر کے مجھے دکھائی خواب دئیے رات بھر کھنڈر کے مجھے ہر اک غزل میں میں روزانہ چاند ٹانکتا ہوں ستارہ چومتے ہیں شب اتر اتر کے مجھے گنوا دی عمر اسے نظم کر نہیں پایا سلیقہ آتے ہیں ویسے تو ہر ہنر کے مجھے اس ایک شوق نے مجھ کو مٹا دیا یارو بس ایک بار کبھی ...

مزید پڑھیے

کس کے سپنوں سے مری نیند سجی رہتی ہے

کس کے سپنوں سے مری نیند سجی رہتی ہے جاگتا ہوں تو ان آنکھوں میں نمی رہتی ہے ڈھونڈھتا رہتا ہوں بے سدھ میں کسی ماچس کو ایک سگریٹ مرے ہونٹوں سے لگی رہتی ہے ایک تصویر سلیقہ سے رکھی ہے گھر میں باقی ہر چیز تو بس یوں ہی پڑی رہتی ہے ایسے عالم میں جہاں کوئی نہیں کہتا کچھ یے صداؤں کی فضا ...

مزید پڑھیے

جو بھی نکلے تری آواز لگاتا نکلے

جو بھی نکلے تری آواز لگاتا نکلے ایسے حالات میں اب گھر سے کوئی کیا نکلے اس کے لہجہ میں سرابوں کی عجب رونق ہے این ممکن ہے وو تپتا ہوا صحرا نکلے ہر طرف خواب وہی خواب وہی اک چہرہ اب کسی طور میرے گھر سے یے ملبہ نکلے دشت والوں کو بتاؤ کی یہاں میں بھی ہوں کیا پتہ مجھ سے ہی ان کا کوئی ...

مزید پڑھیے

مجھ میں آباد سرابوں کا علاقہ کرنے

مجھ میں آباد سرابوں کا علاقہ کرنے پھر چلی آئی تری یاد اجالا کرنے دن مرا پھر بھی کسی طور گزر جائے گا رات آئے گی اداسی کو کشادہ کرنے اور بے وقت چلا آتا ہے ساون مجھ میں ایک گزرے ہوئے موسم کا تقاضا کرنے میں نے جلتے ہوئے صحرا میں ترا نام لیا سائباں خود ہی چلا آیہ ہے سایہ کرنے کیسا ...

مزید پڑھیے

وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا

وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا بھلا میں کون ترا حرف حرف سچ نکلا کہا تھا اس نے محبت فریب ہے دل کا وہ جب بھی دور گیا حرف حرف سچ نکلا انا پرستی میں اپنی مثال آپ تھا وہ جو اس نے چاہا کیا حرف حرف سچ نکلا نہیں ہے کوئی شکایت مجھے زمانے سے مجھے تھا جو بھی گلہ حرف حرف سچ نکلا لکھی تھی ...

مزید پڑھیے

عشق کا بھی قبیل ہوتا ہے

عشق کا بھی قبیل ہوتا ہے درد دل کا کفیل ہوتا ہے یاد آیا نہ کر نمازوں میں میرا سجدہ طویل ہوتا ہے بے وفاؤں کے ذکر میں تیرا تذکرہ بر سبیل ہوتا ہے عرصۂ زیست تم ذرا سوچو ہائے کتنا طویل ہوتا ہے اے شب غم ہر ایک پل تیرا مجھ کو صدیاں مثیل ہوتا ہے اشک جو عشق نے بہایا وہ عاشقوں کا وکیل ...

مزید پڑھیے

تمہارے وصل کو وعدوں میں رکھ دیا میں نے

تمہارے وصل کو وعدوں میں رکھ دیا میں نے کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ دیا میں نے چراغ پہلے منڈیروں پہ میں نے رکھے ہیں پھر انتظار چراغوں میں رکھ دیا میں نے خود اپنے عشق کی شدت کو آزمایا ہے دیا جلا کے ہواؤں میں رکھ دیا میں نے کسی کا عکس نہ آئے گا آئنے میں مرے تمہارے روپ کو آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

زمانے کو الفت کا دستور کر دوں

زمانے کو الفت کا دستور کر دوں میں تیری کہانی کو مشہور کر دوں ترے سامنے رو لوں جی چاہتا ہے ترے دل کو بھی غم سے میں چور کر دوں مسیحا کا احساں نہیں چاہتی ہوں میں زخموں کو اپنے ہی انگور کر دوں مرے عشق پر کوئی تہمت نہ دھرنا اگر تم کہو خود کو منصور کر دوں اگر مل سکے مجھ کو اشکوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4454 سے 6203