بچپن تھا وہ ہمارا یا جھونکا بہار کا
بچپن تھا وہ ہمارا یا جھونکا بہار کا لوٹ آئے کاش پھر وہ زمانہ بہار کا کھڑکی میں اک گلاب مہکتا تھا سامنے برسوں سے بند ہے وہ دریچہ بہار کا کلیوں کا حسن گل کی مہک تتلیوں کا رقص ہے یاد مجھ کو آج بھی چہرہ بہار کا عرصہ گزر گیا پہ لگے کل کی بات ہو اس باغ حسن میں مرا درجہ بہار کا دور ...