قومی زبان

تیز ہے میرا قلم تلوار سے

تیز ہے میرا قلم تلوار سے دوست خائف ہیں مری رفتار سے جیب میں کچھ بھی نہیں تھا اس لئے لوٹ کر میں آ گیا بازار سے جھولیاں بھر بھر کے جاتے ہیں سبھی نوشۂ لجپال کے دربار سے پھر رسائی میں نہیں رہ پایا وہ چاند اوپر ہو گیا دیوار سے آپ غصے میں رہیں اور میرے دوست لوٹ کر سب لے گئے ہیں پیار ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق میں سچ کہوں تو فقط ہے ہی کائنات میں عشق میں عشق زاد چراغوں کی بزم میں رہا ہوں سو جل رہا ہے ابھی میرے دائیں ہات میں عشق وہ حسن نور کی بارش میں جب نہا رہا تھا مچل رہا تھا بہت تب تجلیات میں عشق میں سوچتا ہوں کہ کیا ہوتا دہر میں ہر سو اگر نہ ...

مزید پڑھیے

وہ ترک عشق کا تھا راستہ چلا گیا میں

وہ ترک عشق کا تھا راستہ چلا گیا میں بلا ارادہ ہی جس پر چلا چلا گیا میں وہ شخص یوں ہی کہیں راستے میں مل گیا تھا پلک جھپک کے اسے دیکھتا چلا گیا میں مری حیات میں اک دوسری محبت تھی اسے بھی اور کوئی مل گیا چلا گیا میں خبر نہیں کہ یہاں اور کون ہے موجود پتہ کرو کہ یہیں پر ہوں یا چلا گیا ...

مزید پڑھیے

مسلسل اک مشقت بے سبب ہے

مسلسل اک مشقت بے سبب ہے محبت بھی بہت محنت طلب ہے تمہارا غم ہے رشتہ دار میرا تمہاری یاد ہی میرا نسب ہے تم آ جاتے تو اچھا تھا مگر اب مرے دل میں یہی اک آس کب ہے یوں ہی آتے نہیں احوال تکنے وہ آئے ہیں تو پھر کوئی سبب ہے مرے دالان میں گنجینۂ یاد مروت آشتی افتاد سب ہے میں روشن ہوں ترے ...

مزید پڑھیے

ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار تو اس زمیں پہ بہت اونچا اڑ رہا ہے یار یہ کھڑکیاں تو مجھے اور کہہ رہی ہیں کچھ سمجھ مرے دل نادان یہ ہوا ہے یار یہ دنیا دار مجھے کس طرح سے دیکھتے ہیں کہ یہ بشر ہے فرشتہ ہے دیوتا ہے یار اگر یہ شوق نہیں ہے تو کیا ہے بتلا دے تو کس لئے مجھے کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی

ترے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی یہ دل وہ دل تھا کہ جس کا نہیں تھا در کوئی بتا دے وحشتوں کی فوج کو چلی جائے بتا دے جا کے نہیں یوں بھی آج گھر کوئی میں جا رہا ہوں فصیلو درختو تصویرو سو تم میں تو نہیں ہے میرا ہم سفر کوئی اسے کہو کہ کسی کو تری ضرورت ہے کہو کہ جاگتا رہتا ہے رات بھر ...

مزید پڑھیے

گریز

مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئے گجرے نہیں ہوتے سروں پر حکمراں مہر درخشاں اک قصیدہ میرے لب سے سن نہیں پایا جب ایسا ہے تو کیوں ندیا میں گرتے زرد لمحے کی دعا چاہوں میں اپنی رات کو کیوں چاند کی جھولی میں پھیلا دوں کہ رات آتی نظر آتی ہے جاتی کا پتا تک بھی نہیں چلتا سو حیرت ...

مزید پڑھیے

وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں

وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں کبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیں علاج درد محبت تو کر نہیں سکتے تمہارے قبضے میں کیا مرگ ناگہاں بھی نہیں وہ اس مقام سے گزرے ہیں دل یہ کہتا ہے جھکا ہے سر کہ جہاں کوئی آستاں بھی نہیں اسی چمن میں کئی بار شعلے بھڑکے ہیں مری نوا کا کوئی ...

مزید پڑھیے

چین پڑتا نہیں ہے سونے میں

چین پڑتا نہیں ہے سونے میں سوئیاں تو نہیں بچھونے میں چہرہ اشکوں سے یوں بھگونے میں کیا سکوں مل رہا ہے رونے میں اک نظر کا سوال ہوتا ہے اختلافات ختم ہونے میں آپ عشرت پسند کیا جانیں وہ جو لذت ہے زخم دھونے میں کون پودے صداقتوں کے لگائے دن لگیں گے درخت ہونے میں ایک مجبور کی ہنسی ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ

کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ اس جنس گراں کو سر بازار تو لاؤ تمثیل جمال نگۂ یار تو لاؤ ممکن ہو جواب لب و رخسار تو لاؤ لو نام نہ یارو کہ بغاوت ہے بڑی شے تم پہلے ذرا جرأت گفتار تو لاؤ اب حسن میں پیدا ہیں پذیرائی کے آثار تم عشق میں کچھ جرأت اظہار تو لاؤ از راہ عقیدت اسے آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4436 سے 6203