قومی زبان

ہر گھڑی پیش نظر عشق میں کیا کیا نہ رہا

ہر گھڑی پیش نظر عشق میں کیا کیا نہ رہا میرا دل بس تری تصویر کا دیوانہ رہا یہ ستم مجھ پہ مرے عشق کا اچھا نہ رہا تجھ کو دیکھا تو مرا دل مرا اپنا نہ رہا ایسا مدہوش کیا تیری تجلی نے مجھے طور بھی میرے لئے وجہ تماشہ نہ رہا یوں ترے نقش کف پا پہ ادا کی ہے نماز سر میں کعبہ کے لئے ایک بھی ...

مزید پڑھیے

یوں نہ آنکھیں بدل مجھ سے میرے صنم میں ترے در سے اٹھ کر کہاں جاؤں گا

یوں نہ آنکھیں بدل مجھ سے میرے صنم میں ترے در سے اٹھ کر کہاں جاؤں گا تو اگر مجھ سے دامن بچاتا رہا سر ترے در سے ٹکرا کے مر جاؤں گا ہو چکی ہیں زمانے میں رسوائیاں اب نگاہیں چرانے سے کیا فائدہ تو بھلا دے مجھے اپنے دل سے مگر میں جہاں جاؤں گا تیرا کہلاؤں گا چاند تاروں سے نظریں ملائے ...

مزید پڑھیے

عشق صنم نماز ہے ہے یہی زندگی مری

عشق صنم نماز ہے ہے یہی زندگی مری دل ہے مرا صنم کدہ دین ہے میرا کافری سر بہ سجود ہوں صنم بت کدۂ مجاز میں دے گئی بت پرستیاں تیری ادائے دلبری زاہد عشق سے جدا مذہب عشق ہے مرا جھکنا در نقیب پر میرے لئے ہے بہتری میرے سر نیاز کو دیر و حرم کریں سلام مجھ کو ترے خیال نے بخشی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

تم ہو شریک غم تو مجھے کوئی غم نہیں

تم ہو شریک غم تو مجھے کوئی غم نہیں دنیا بھی مرے واسطے جنت سے کم نہیں چاہا ہے تجھ کو تجھ پہ لٹائی ہے زندگی تیرے علاوہ کچھ مرا دین و دھرم نہیں وہ بد نصیب راحت ہستی نہ پا سکا جس پہ مرے حبیب کی چشم کرم نہیں میں بندۂ صنم سہی کافر سہی مگر پائے مرا مقام کسی میں یہ دم نہیں اس راستے میں ...

مزید پڑھیے

اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے

اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے دل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سے ہر اک کو ہے اب انس اسی بت کی گلی سے ویران ہوئیں مسجدیں سونے ہیں کلیسے بوسہ ہی مجھے دو جو نہیں وصل پہ راضی اچھا ہے وہی کام جو ہو جائے خوشی سے واعظ جو پتا خلد کا پوچھے تو بتا دوں جنت کی طرف جاتے ہیں اس بت کی گلی ...

مزید پڑھیے

آپ کو غیر سے الفت ہو گئی

آپ کو غیر سے الفت ہو گئی ہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئی ان بتوں سے ترک الفت ہو گئی مجھ پہ خالق کی عنایت ہو گئی ہجر میں اس کے یہ وحشت ہو گئی اپنے سائے سے بھی نفرت ہو گئی خواب میں ان کی زیارت ہو گئی آج پوری دل کی حسرت ہو گئی چلئے جھگڑوں سے فراغت ہو گئی جان اپنی نذر فرقت ہو گئی ہجر ...

مزید پڑھیے

امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیں

امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیں کہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیں اس کا طواف کرتے ہیں عشاق روز و شب کوئے صنم بھی رتبے میں کعبہ سے کم نہیں میرے سوال وصل کو للہ رد نہ کر دیکھ اے صنم یہ شیوۂ اہل کرم نہیں حوروں کا تجھ میں حسن ہے پریوں کی شوخیاں اے بت قسم خدا کی کسی سے تو کم ...

مزید پڑھیے

تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کرو

تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کرو بندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کرو مہندی مل کر تو نہ آنے کا بہانہ نہ کرو آج ہے وصل کی شب خون تمنا نہ کرو تم نکالو مرے ارماں مرا مطلب یہ نہیں مجھ کو کہنا تو یہ ہے غیر کا کہنا نہ کرو توبہ توبہ مئے الفت کو بتاتے ہو حرام بے پیے شیخ جی اس طرح سے ...

مزید پڑھیے

دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتا

دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتا سر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتا سچ کہتے ہیں سب لوگ محبت کو برا ہے حال دل بیمار تو دیکھا نہیں جاتا یہ کہہ کے وہ بالیں سے مرے اٹھ گئے افسوس کمبخت ترا حال تو دیکھا نہیں جاتا کیا دیں گے وہ میرے دل سوزاں کو تسلی سینے پہ مرے ہاتھ تو رکھا نہیں ...

مزید پڑھیے

اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیں

اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیں کوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیں پہلی سی اس میں عادت جور و ستم نہیں افسوس اب یہی ہے کہ اس وقت ہم نہیں ہاں کوئے غیر میں ترے نقش قدم نہیں تجھ پر مرا گمان خدا کی قسم نہیں مجھ نیم جاں کے قتل میں تاخیر اس قدر معلوم ہو گیا ترے خنجر میں دم نہیں نالو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4375 سے 6203