بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی
بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی ہے آخر انتہا ہر ابتدا کی جگہ کیا ہو ان آنکھوں میں حیا کی بھری ہو جن میں شوخی انتہا کی شب غم آنے میں کرتی ہے غمزے ادا بھاتی نہیں مجھ کو قضا کی مرا دل لے کے اب مجھ پر یہ ظلم آہ دغا کی تو نے او ظالم دغا کی مزا ہے مے کشی کا ابر میں آج فلک پرچھائی ہے رحمت ...