قومی زبان

بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی

بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کی ہے آخر انتہا ہر ابتدا کی جگہ کیا ہو ان آنکھوں میں حیا کی بھری ہو جن میں شوخی انتہا کی شب غم آنے میں کرتی ہے غمزے ادا بھاتی نہیں مجھ کو قضا کی مرا دل لے کے اب مجھ پر یہ ظلم آہ دغا کی تو نے او ظالم دغا کی مزا ہے مے کشی کا ابر میں آج فلک پرچھائی ہے رحمت ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیں

یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیں بڑے بد ظن نہایت بد گماں ہیں غلط ہے یہ وہ ہم پر مہرباں ہیں کہاں اپنی سمجھ ہے ہم کہاں ہیں نہ یہ پوچھیں نہ آئے ہجر میں موت خدا بھولا ہے بت نا مہرباں ہیں نہیں اٹھتے ہیں آ کر غیر ہرگز محبت میں یہی بار گراں ہیں ثبوت عشق ہے لب خشک سرد آہ چھپائیں کیا ...

مزید پڑھیے

شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کا

شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کا دل ہی مرا ہوا ہے لو سانپ آستیں کا اس کو خیال آیا پھر اس بت حسیں کا اللہ ہے نگہباں میرے دل حزیں کا گو پاس وہ نہیں ہیں پر دیکھتا ہوں ہر دم لیتا ہوں میں تصور سے کام دوربیں کا حوروں کے ذکر پر میں آیا نہیں ہوں واعظ مجھ کو خیال اس دم آیا ہے اک حسیں ...

مزید پڑھیے

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں ہم جام جام جام پکارے چلے گئے روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے اس دست اختیار میں اک جان ہی تو تھی ہم تم پہ اپنی جان کو وارے چلے گئے بے مہر زندگی کا ...

مزید پڑھیے

اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے

اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے یہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والے کتنی پاکیزہ جگہ ہے کہ جہاں پر لوگوں اہل مقتل ہیں مری لاش جلانے والے غم دوراں کے مصائب کا مداوا کیا ہے عشق بس عشق بتاتے ہیں بتانے والے یہی سب لوگ ہیں ان سب نے مرا قتل کیا یہ مری قبر کو پھولوں سے سجانے ...

مزید پڑھیے

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی کہ اب ہر اک فریاد عنایت بے نوا ہوگی کسی فرد محبت سے بھلا امید کیا رکھنا محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہوگی پرانے کاغذوں پہ درج میری شاعری شاید کسی مجروح دل کے زخم کی مائل ردا ہوگی کرو گے ظلم کب تک مشورہ ہے باز آ جاؤ بہت پچھتاؤ گے تم ظلم ...

مزید پڑھیے

اور تو کچھ نہیں کیا ہوگا

اور تو کچھ نہیں کیا ہوگا میں نے پھر موت کو جیا ہوگا اس کے ساگر سے لب لگائے تھے اس نے اک گھونٹ تو پیا ہوگا آج بلبل نے اس چنبیلی سے جانے کیا کان میں کہا ہوگا ایک باقی چراغ تھا اچھا اس کو تم نے بجھا دیا ہوگا کچھ دنوں قبل تک نیا تھا میں اب جو ہے آج کل نیا ہوگا

مزید پڑھیے

عشق کی آج انتہا کر دو

عشق کی آج انتہا کر دو روح کو جسم سے جدا کر دو ہے خلاصہ یہی محبت کا ہو جو اچھا اسے برا کر دو یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو وقت رخصت گلے لگا لینا آخری بار یہ خطا کر دو تم مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی اپنے حق میں تو فیصلہ کر دو شبنمی رات کے اندھیرے کو برہنہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا اے جلوۂ محبوبی جب تیرا خیال آیا تھا ان کی توجہ میں ہر جذب طلب میرا ہر چند مؤدب تھی جب میرا سوال آیا اس بات پہ بدلی ہے بس چشم کرم ان کی عشاق کے ہونٹوں پہ کیوں حرف سوال آیا یا ان کے حسین ابرو آئے ہیں تصور میں یا محفل ہستی میں رخشندہ ہلال آیا ہم ...

مزید پڑھیے

جلوہ جو ترے رخ کا احساس میں ڈھل جائے

جلوہ جو ترے رخ کا احساس میں ڈھل جائے اس عالم ہستی کا عالم ہی بدل جائے ان مست نگاہوں کا اک دور جو چل جائے ہم درد کے ماروں کی تقدیر بدل جائے مصروف عبادت کا یوں ختم ہو افسانہ سر ہو تری چوکھٹ پہ دم میرا نکل جائے تو لاکھ بچا دامن در سے نہ اٹھوں گا میں ان میں سے نہیں ہوں میں ٹالے سے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4374 سے 6203