قومی زبان

زرد ذائقہ

ہم عورتیں ایک دوسرے کی دشمن ہیں مگر سب نہیں تم ہم سب سے محبت کرتے ہو مگر ہمیشہ نہیں موسم کس قدر جلد بیت جاتے ہیں اور محبتیں اس سے بھی جلد اب یہ بھی گزرے زمانے کی بات ہے جب میرے چہرے کی رنگت اور تمہاری آنکھوں کے رنگ کے درمیان ایک بے نام رشتہ تھا اور میرا سراپا پس منظر کو معدوم کر ...

مزید پڑھیے

خطبۂ زینبؔ

زمین اب دھماکوں سے چٹخنے لگی ہے اور آسمان سے ٹافیاں برس رہی ہیں چیختے چیختے میری آواز کھو گئی ٹیلی ویژن کے اس شور میں خطبۂ زینبؔ کون سنے مناجاتوں کا آہنگ نعروں کی ہولناکی میں تبدیل ہو گیا مجھے اپنی بے ردائی کا غم نہیں کہ میرے بچے اپنی جیبوں میں شعلے بھر رہے ہیں

مزید پڑھیے

اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے

اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے ترے دیار میں سارے سوار اتر کے گئے ہے برگ و بار کا گرنا تو قرض موسم کا ہوائے تند پرندے کہاں شجر کے گئے ہو شہر شہر خموشی کا کچھ سبب شاید مگر وہ شور و شغب بھی تو بحر و بر کے گئے مری ہی جان کے دشمن ہیں شاہکار مرے مرے خلاف کرشمے مرے ہنر کے گئے ہر اک ...

مزید پڑھیے

درختوں پر پرندے بولتے ہیں

درختوں پر پرندے بولتے ہیں نکل گھر سے کہ رستے بولتے ہیں در و دیوار سے رونق گھروں کی دلوں کا حال چہرے بولتے ہیں یوں ہی سینوں سے کب نکلی ہیں آہیں لگے جب ٹھیس شیشے بولتے ہیں کوئی بے ساختہ جملہ کبھی تو یہ سب الفاظ طوطے بولتے ہیں ابھی تو گل فشانی ہو رہی ہے یہ دیکھیں کیا وہ آگے بولتے ...

مزید پڑھیے

یہ بات الگ دل کو تری یاد نے باندھا

یہ بات الگ دل کو تری یاد نے باندھا اس صید کو ورنہ کہاں صیاد نے باندھا کوچہ یہ کوئی اور ہی آباد کرے گا سامان جو اب کے دل برباد نے باندھا اس شہر کو اب چھوڑ کے کیا جاؤں کہ مجھ کو روکا ہے کسی آہ نے فریاد نے باندھا جو اس کی طلب ہے وہی اب میری طلب ہے کس سحر سے مجھ کو مرے ہم زاد نے ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہو اور کوئی خواب نہ ہو

آنکھ ہو اور کوئی خواب نہ ہو نازل ایسا کہیں عذاب نہ ہو کچھ تو محفوظ رکھیے سینے میں زندگانی کھلی کتاب نہ ہو صرف کیجے نہ اس قدر خود کو لاکھ چاہو تو پھر حساب نہ ہو اس لیے کاٹتا ہوں یہ گھڑیاں وقت کی چال کامیاب نہ ہو گونج کیسی ہے کوہساروں میں یہ کسی چیخ کا جواب نہ ہو کیا چمکتا ہے ...

مزید پڑھیے

سارے الزام بھول جاتا ہوں

سارے الزام بھول جاتا ہوں میں تو دشنام بھول جاتا ہوں روز میں پوچھتا ہوں تیرا نام روز میں نام بھول جاتا ہوں دیکھتا ہوں بکھرتے پھولوں کو اپنا انجام بھول جاتا ہوں ایسا چسکا لگا ہے باتوں کا گھر کا ہر کام بھول جاتا ہوں یاد کرتا ہوں اس کو سارا دن اور سر شام بھول جاتا ہوں ایسا مصروف ...

مزید پڑھیے

شجر میں شجر سا بچا کچھ نہیں

شجر میں شجر سا بچا کچھ نہیں ہواؤں سے پھر بھی گلا کچھ نہیں کہا کیا گزرتے ہوئے ابر نے جھلستی زمیں نے سنا کچھ نہیں کناروں پہ لکھا تھا کیا کیا مگر کسی موج نے بھی پڑھا کچھ نہیں چلو اب کسی کی دعا مل گئی مرے پاس ویسے بھی تھا کچھ نہیں اسے اب بھی فاروقؔ کہتے ہو گھر اب اس میں تو گھر سا ...

مزید پڑھیے

کسی کے بچھڑنے کا ڈر ہی نہیں

کسی کے بچھڑنے کا ڈر ہی نہیں سفر میں کوئی ہم سفر ہی نہیں بہت شوق گھر کو سجانے کا تھا مگر کیا کریں اپنا گھر ہی نہیں ابھی دل میں روشن ہے ایسا دیا ہواؤں کو جس کی خبر ہی نہیں خدا جانے کیسی خطا ہو گئی دعاؤں میں اب کے اثر ہی نہیں لکھوں زخم کو پھول دل کو چمن نہیں مجھ میں ایسا ہنر ہی ...

مزید پڑھیے

پھول خوشبو چاندنی مہتاب وہ

پھول خوشبو چاندنی مہتاب وہ پر مری خاطر ہے کوئی خواب وہ اپنی اپنی الجھنوں میں یار گم اب کہاں ہے حلقۂ احباب وہ اس قدر بیتاب آخر کس لیے یہ نہیں ہے اے دل بے تاب وہ بجھ گیا کچھ دل بھی اب کے ہجر میں اور چہرے پر کہاں ہے تاب وہ ایک صحرا کی طرح میں تشنہ لب ایک ندی کی طرح سیراب وہ دشمن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4252 سے 6203