ہمیں تو ہیں جو ترے ساتھ چلتے رہتے ہیں
ہمیں تو ہیں جو ترے ساتھ چلتے رہتے ہیں وگرنہ لوگ تو رستے بدلتے رہتے ہیں کبھی زمانے کا غم ہے کبھی تمہارا غم غزل سنانے کے پہلو نکلتے رہتے ہیں نظر تو آتے ہیں اب پھول پھل درختوں پر یہ اور بات کہ ہم ہاتھ ملتے رہتے ہیں یہ اپنی مرضی کے مالک ہیں ان سے کچھ نہ کہو پرانے لوگ ہیں گرتے ...