قومی زبان

صرف کاغذ کے پھول ہوتے ہیں

صرف کاغذ کے پھول ہوتے ہیں لوگ آنکھوں کی دھول ہوتے ہیں یہ کوئی موڑ ہے جدائی کا واپسی کے اصول ہوتے ہیں ایک پتھر سے بارہا ٹھوکر یہ بھروسے بھی بھول ہوتے ہیں جب تلک تم نظر نہیں آتے سارے موسم فضول ہوتے ہیں دل صحیفہ ہے اک محبت کا اور چہرے رسول ہوتے ہیں سارے مخلص ہی آب دیدہ ہیں آپ ...

مزید پڑھیے

نفرت کی آندھیوں کو محبت میں ڈھال کر

نفرت کی آندھیوں کو محبت میں ڈھال کر تنہا کھڑی ہوں دشت میں رشتے سنبھال کر مجھ کو تو تیرے درد بھی تجھ سے عزیز ہیں بیٹھی ہوں دیکھ پیار سے جھولی میں ڈال کر تعبیر ڈھونڈتے ہوئے رستہ بھٹک گئیں خوابوں سمیت پھینک دیں آنکھیں نکال کر شہرت کما رہے ہو تم اخبار کی طرح اپنے پرائے لوگوں کی ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پر صحرا رہتا ہے آنکھ میں کھارا پانی

ہونٹوں پر صحرا رہتا ہے آنکھ میں کھارا پانی ایک کنارا آگ ہے میرا ایک کنارہ پانی سوکھے پیڑ اور پیاسی آنکھیں آسمان کو دیکھیں مٹی میں جا کر چھپ بیٹھا دھوپ کا مارا پانی چاک کی اس گردش نے ماہ و سال لپیٹ لیے کوزہ گر کی ساری پونجی مٹی گارا پانی آتش گیر مسافت ہے اور اک رستا مشکیزہ کب تک ...

مزید پڑھیے

پھر اک خوشی سے کیا اس نے ہمکنار مجھے

پھر اک خوشی سے کیا اس نے ہمکنار مجھے وہ کھینچ لے گیا دریائے غم کے پار مجھے چراغ راہ محبت ہوں طاق میں رکھنا غبار قریۂ نفرت میں مت اتار مجھے میں اس کی یاد میں راتوں کو سو نہیں سکتی وہ دور رہ کے بھی رکھتا ہے اشک بار مجھے کٹی پتنگ سی اٹکی ہوں شاخ نازک پر ہوا کا ہاتھ بھی کرتا ہے تار ...

مزید پڑھیے

دل پر ترے ہجراں میں قیامت کی گھڑی ہے

دل پر ترے ہجراں میں قیامت کی گھڑی ہے احساس کے تابوت میں اک لاش پڑی ہے کیچڑ کا تکلف نہ کرو شہر کے لوگو آنچل پہ تو رسوائی کی اک چھینٹ بڑی ہے سینے سے لگو ہنس کے رہے یاد یہ لمحہ کھو کر ہمیں رونے کو تو اک عمر پڑی ہے ممکن ہے تو اک بار اسے توڑ دے آ کر برسوں ہوئے دہلیز پہ امید کھڑی ہے کس ...

مزید پڑھیے

میرے اندر بھی مرے یار سی خاموشی ہے

میرے اندر بھی مرے یار سی خاموشی ہے یعنی اس پار بھی اس پار سی خاموشی ہے دستکیں دیتی ہوں ناکام پلٹ آتی ہوں ایک در ہے جہاں دیوار سی خاموشی ہے کس مصور کا تراشا ہوا شہکار ہے تو جو خد و خال میں کہسار سی خاموشی ہے سارے احساس مسل دے گی کچل جائے گی اس کے لب پر جو گراں بار سی خاموشی ...

مزید پڑھیے

میں تو لمحات کی سازش کا نشانہ ٹھہرا

میں تو لمحات کی سازش کا نشانہ ٹھہرا تو جو ٹھہرا تو ترے ساتھ زمانہ ٹھہرا آنے والے کسی موسم سے ہمیں کیا لینا دل ہی جب درد کی خوشبو کا خزانہ ٹھہرا یاد ہے راکھ تلے ایک شرارے کی طرح یہ جو بجھ جائے ہواؤں کا بہانہ ٹھہرا جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ...

مزید پڑھیے

درد کے چہرے بدل جاتے ہیں کیوں

درد کے چہرے بدل جاتے ہیں کیوں مرثیے نغموں میں ڈھل جاتے ہیں کیوں سوچ کے پیکر نہیں جب موم کے ہاتھ آتے ہی پگھل جاتے ہیں کیوں جب بکھر جاتی ہے خوش بو خواب کی نیند کے گیسو مچل جاتے ہیں کیوں جھیل سی آنکھوں میں مجھ کو دیکھ کر دو دیئے چپکے سے جل جاتے ہیں کیوں دھوپ چھوتی ہے بدن کو جب ...

مزید پڑھیے

غزلوں میں اب وہ رنگ نہ رعنائی رہ گئی

غزلوں میں اب وہ رنگ نہ رعنائی رہ گئی کچھ رہ گئی تو قافیہ پیمائی رہ گئی لفظوں کا یہ حصار بلندی نہ چھو سکا یوں بھی مرے خیال کی گہرائی رہ گئی کیا سوچیے کہ رشتۂ دیوار کیا ہوا دھوپوں سے اب جو معرکہ آرائی رہ گئی کب جانے ساتھ چھوڑ دیں دل کی یہ دھڑکنیں ہر وقت سوچتی یہی تنہائی رہ ...

مزید پڑھیے

جو خود پہ بیٹھے بٹھائے زوال لے آئے

جو خود پہ بیٹھے بٹھائے زوال لے آئے کہاں سے ہم بھی لکھا کر کمال لے آئے کواڑ کھولیں تو اڑ جائیں گی ابابیلیں نہ جانے ذہن میں کیسا خیال لے آئے ہر ایک شخص سمجھ کر بھی ہو گیا خاموش ازل سے چہرے پہ ہم وہ سوال لے آئے ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے سلگتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4246 سے 6203