راہ گم کردہ سر منزل بھٹک کر آ گیا
راہ گم کردہ سر منزل بھٹک کر آ گیا صبح کا بھولا تھا لیکن شام کو گھر آ گیا جیسے اس کو روک سکنا اپنے بس میں ہی نہیں جب بھی چاہا بے اجازت گھر کے اندر آ گیا بھاگ کر جائیں کہاں اب تو ہی کچھ تدبیر کر سامنے اپنے سمندر سر پہ لشکر آ گیا اس نے کوشش تو بہت کی سر بچانے کی مگر جس طرف سے تھا نہیں ...