کیا خطا ہوئی ہم سے کچھ پتا نہیں ملتا
کیا خطا ہوئی ہم سے کچھ پتا نہیں ملتا ہم دعا تو کرتے ہیں مدعا نہیں ملتا اس سے لو لگاؤ تو اپنا سر جھکاؤ تو پھر ذرا بتاؤ تو تم کو کیا نہیں ملتا چل پڑیں تو منزل خود پاس آنے لگتی ہے جب قدم نہیں اٹھتے راستہ نہیں ملتا انگلیاں اٹھاتے ہیں جو مری وفاؤں پر کیا انہیں حقیقت کا آئنہ نہیں ...