یاروں کو کیا ڈھونڈ رہے ہو وقت کی آنکھ مچولی میں
یاروں کو کیا ڈھونڈ رہے ہو وقت کی آنکھ مچولی میں شہر میں وہ تو بٹے ہوئے ہیں اپنی اپنی ٹولی میں شاہوں جیسا کچھ بھی نہیں ہے گنبد طاق نہ محرابیں تاج محل کا عکس نہ ڈھونڈو میری شکستہ کھولی میں ڈھلتے ڈھلتے سورج نے بھی ہم پر یہ احسان کیا چاند ستارے ڈال دیے ہیں رات کی خالی جھولی ...